اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی پاکستان بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
نیو یارک:
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کردی۔
پاکستان اور بھارت سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی حالیہ برسوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے، دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں، اقوام متحدہ کے اموربشمول امن مشنزمیں دونوں ممالک کی شراکت پر مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ابلتے ہوئے مقام پر پہنچ رہے ہیں، پہلگام حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں، شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ذمہ داروں کو قانونی ذرائع سے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس نازک گھڑی میں فوجی تصادم جو قابو سے باہر ہوسکتا ہے سے بچنا بہت ضروری ہے، دونوں ممالک کو زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے اورجنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کا وقت ہے، دونوں ممالک کیلئے یہی میرا پیغام رہا ہے، کوئی غلطی نہ کریں، فوجی کارروائی کوئی حل نہیں ہے، میں امن کے لئے دونوں حکومتوں کو اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔
سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کے لیے تیار ہے جو کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے تجدید عہد کو فروغ دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ دونوں ممالک کرتا ہوں کہا کہ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔