کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے انٹیلی جنس کی ناکامی کو قبول کیا ہے اور ایسی صورتحال میں اسے 26 لوگوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی کو 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے سے تین دن پہلے ایک انٹیلی جنس رپورٹ ملی تھی، جس کے بعد انہوں نے جموں و کشمیر کا دورہ منسوخ کردیا تھا۔ رانچی میں کانگریس کی "آئین بچاؤ ریلی" سے خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے یہ بھی پوچھا کہ اس انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر لوگوں کی حفاظت کو یقینی کیوں نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے انٹیلی جنس کی ناکامی کو قبول کیا ہے اور ایسی صورتحال میں اسے 26 لوگوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیئے۔ کانگریس صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کانگریس پاکستان کے زیر اہتمام دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے ہر قدم کی حمایت کرے گی اور حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں نے کم از کم 26 لوگوں کو بے دردی سے ہلاک کر دیا، ان میں زیادہ تر سیاح تھے۔ بھارت نے اس ہولناک واقعے کا الزام پاکستان سے منسلک دہشت گرد گروپوں کو ٹھہرایا ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے کہا کہ 22 اپریل کو ملک میں ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا، جس میں 26 بے گناہ لوگ مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اعتراف کیا کہ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب آپ کو یہ معلوم ہے تو پہلے مناسب انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔ کانگریس صدر نے زور دے کر کہا کہ جب آپ غلطی قبول کر رہے ہیں، تو آپ کو اتنے لوگوں کی موت کی ذمہ داری بھی لینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف لڑنے کے لئے جو بھی اقدامات کرے گی ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے بھی یہ اطلاع ملی ہے، اخبارات میں یہ بھی آیا ہے کہ حملے سے تین دن پہلے وہاں سے مودی جی کو انٹیلی جنس رپورٹ بھیجی گئی تھی۔ اسی وجہ سے مودی نے کشمیر جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا تھا۔ کانگریس صدر نے سوال کیا کہ جب انٹیلی جنس والوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا جانا مناسب نہیں ہے تو یہ بات وہاں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیکورٹی والوں، پولیس اور بارڈر سیکورٹی فورس کو کیوں نہیں بتائی گئی اور لوگوں کی حفاظت کو کیوں یقینی نہیں بنایا گیا.

بھارتی وزیراعظم مودی کا جموں و کشمیر کا دورہ 19 اپریل کو ہونا تھا، لیکن خراب موسم کی پیش گوئی کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہشت گردانہ حملے انٹیلی جنس رپورٹ کانگریس صدر نے نے کہا کہ لوگوں کی اپریل کو انہوں نے کیا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق