UrduPoint:
2026-07-24@06:06:00 GMT

پاکستان میں بھارتی افواج کے اہداف کیا تھے؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

پاکستان میں بھارتی افواج کے اہداف کیا تھے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 مئی 2025ء) بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کیے گئے حملوں کا ہدف ''دہشت گردوں‘‘ کے ٹھکانے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ بنیادی طور پر دو گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں لشکر طیبہ اور جیش محمد شامل ہیں۔

تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہبھارتی حملے دراصل شہری علاقوں میں کیے گئے، جن کے نتیجے میں عام شہری ہی مارے گئے۔

آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کی تاریخ کیا ہے؟

لشکر طیبہ کیا ہے؟

لشکر طیبہ جسے ''پاک لشکر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، عالمی سطح پر ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1987 میں حافظ سعید نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ اس گروہ کی بنیاد رکھی تھی۔

(جاری ہے)

اس عسکریت پسند تنظیم کی اساس کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف لڑائی پر مرکوز ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ گروہ سن 1993 سے متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں نومبر سن 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملے بھی شامل ہیں۔

اس خونریز کارروائی میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حافظ سعید ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کر چکے ہیں۔

بھارتی فورسز نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان میں کی گئی اپنی تازہ کارروائیوں میں لاہور کے قریب مریدکے میں واقع 'مرکز طیبہ‘ کو بھی نشانہ بنایا، جو مبینہ طور پر لشکر طیبہ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

بھارت کے مطابق ممبئی حملہ آوروں کو تربیت اسی سینٹر میں دی گئی تھی۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس گروپ پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اسے غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ حافظ سعید سن 2019 میں گرفتار ہوئے اور انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت کے کئی مقدمات میں 31 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

جیشِ محمد کی تاریخ کیا ہے؟

پنجاب میں قائم جیش محمد کی بنیاد مسعود اظہر نے سن 1999 میں اس وقت رکھی، جب انہیں بھارت میں قید سے ایک فضائی جہاز کے اغوا کے بدلے رہائی ملی۔

اس طیارے کو اغوا کرکے افغانستان کے شہر قندھار لے جایا گیا تھا۔

پاکستان نے سن 2002 میں اس گروپ پر پابندی لگا دی تھی تاہم امریکا اور بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ تنظیم اب بھی کھلے عام کام کر رہی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے بہاولپور میں واقع 'مرکز سبحان اللہ‘ پر حملہ کیا، جو جیش محمد کا مرکزی دفتر قرار دیا جاتا ہے۔

یہ گروپ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کئی خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

تاہم گزشتہ برسوں میں وادی کشمیر میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔

مسعود اظہر طویل عرصے سے منظرِ عام سے غائب ہیں، لیکن وقتاً فوقتاً ان کے بہاولپور کے قریب موجود ہونے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جہاں وہ مبینہ طور پر ایک مذہبی ادارہ چلاتے ہیں۔

جیش محمد نے بدھ کے روز تصدیق کر دی کہ بھارتی حملوں میں اس تنظیم کے سربراہ مسعود اظہر کے 10 رشتہ دار اور ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ہلاکتیں بہاولپور میں جیش محمد کے مبینہ ہیڈ کوارٹر 'مرکز سبحان اللہ‘ پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں ہوئیں۔

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا