اب تک کی بڑی خبر ، پاکستان کی جانب سے مار گرائے جانے والے دوسرے رافیل طیارے کی بھی تصدیق ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
نئی دہلی (ڈیلی پاکستا ن آن لائن) معروف عالمی جریدے "دی واشنگٹن پوسٹ" نے بھارتی طیاروں کے ملبوں کی آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز کے جائزے کے بعد اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان میں دکھایا گیا ملبہ کم از کم دو فرانسیسی ساختہ لڑاکا طیاروں سے مطابقت رکھتا ہے، جو بھارتی فضائیہ استعمال کرتی ہے۔تصدیق شدہ ویڈیوز میں بھارتی فضائیہ کے زیر استعمال رافیل طیاروں کے تباہ شدہ پرزے اور ڈھانچے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر حالیہ جھڑپوں کے دوران گرائے گئے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے عالمی سطح پر ایک بھارتی رافیل طیارے کا ملبہ ملنے کی تصدیق ہوئی تھی دوسری جانب پاک فضائیہ نے آج پانچ بھارتی طیارے مار گرانے کے ثبوت پیش کردئیے ہیں۔ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے تین بھارتی رافیل سمیت 5 طیاروں کو گرانے کے ثبوت پیش کیے ۔ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے تین بھارتی رافیل سمیت 5 بھارتی طیاروں کو گرانے کے ثبوت پیش کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کے نمبرز اور تباہ ہونے کی لوکیشن بھی دکھائی جبکہ بھارتی پائلٹس کی آپس میں گفتگو بھی سنوائی ۔ آڈیو کال میں بھارتی رافیل کے فارمیشن کمانڈر نے کہا کہ ’’ ہمارا ایک ممبر مسنگ ہے ، فضا میں ایک دھماکہ سنا ہے ‘‘۔
کوئٹہ میں زلزلہ
پاکستان ایئر فورس کے ایئر وائس مارشل نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران بتا یا کہ 7 مئی کی رات پاکستان کی فضائی حدود کے دفاع کے لیے 42 جنگی طیارے فضا میں بلند کیے گئے۔ ان میں سے ایک اسکواڈرن نے کامیابی سے بھارتی فضائی جارحیت کا جواب دیا اور ایک رافیل طیارہ لائن آف کنٹرول (LOC) سے 54 میل دور سری نگر کے علاقے میں مار گرایا گیا۔"تمام گرائے گئے بھارتی طیاروں کی الیکٹرانک شناخت (Electronic ID) مکمل ہو چکی ہے، اور ہم نے اس حوالے سے ماہرانہ تصاویر، نقشے، اور ریڈیو کمیونیکیشنز دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں تاکہ بھارتی فیک نیوز کا پردہ فاش ہو سکے۔پاکستانی ایئر فورس نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی تھیں اور پاکستان کی فضائی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے انجام دی گئیں۔ترجمان نے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں پر زور دیا کہ وہ جھوٹ پر مبنی بیانیے کے بجائے حقیقت کا سامنا کریں اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔
بھارت کی جانب سے 6 بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا الیکٹرانک ثبوت موجود ہے، سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارتی رافیل
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔