آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے امریکی وزیر خارجہ کا رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدہ صورت حال پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں مارکو روبیو نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تحمل اور سفارتی ذرائع سے معاملات حل کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے جاری جارحیت کے جواب میں آپریشن "بنیان المرصوص" کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت بھارتی فوجی تنصیبات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مری میں ’’پاک فوج زندہ باد ‘‘ ریلی
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے صرف ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں سے بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں حملے کیے تھے۔
حکومتی و عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان غیر فوجی اہداف سے اجتناب کرتے ہوئے صرف دفاعی حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔