آمنہ شیخ اور محب مرزا کی علیحدگی کیوں ہوئی؟ اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ آمنہ شیخ نے حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں اپنی ذاتی زندگی اور شوبز سے وقفے کے بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔
مات، پاکیزہ، داَم، اڑان اور میں عبدالقادر ہوں جیسے مقبول ڈراموں میں بہترین اداکاری کیلئے مشہور اداکارہ آمنہ شیخ طلاق کے بعد میڈیا انڈسٹری سے تقریباً سات سال دور رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محب مرزا سے شادی ختم ہونے اور بیٹی کی پیدائش کے بعد انہیں مکمل ذہنی و جذباتی بحالی کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کے اردگرد بہت زیادہ دباؤ اور منفی ماحول تھا، جس سے بچنے کے لیے انہوں نے امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں ان کی فیملی پہلے سے موجود تھی اور انہوں نے اداکارہ کو مضبوط سہارا دیا۔
آمنہ شیخ کے مطابق اسی 7 سال کے دوران انہوں نے خود کو سنبھالنے، اپنی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے اور مستقبل کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے عزم کیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ دبئی منتقلی کے دوران ان کی ملاقات عمر سے ہوئی اور دونوں خاندانوں کی رضا مندی کھے بعد ہی ان دونوں نے باہمی رضا مندی سے شادی کا فیصلہ کیا۔
اپنی ذاتی زندگی کو نجی رکھنے کے حوالے سے آمنہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فیملی کو سوشل میڈیا کی توجہ اور غیرضروری بحث سے بچانا چاہتی ہیں، اسی لیے وہ اپنی بیٹی یا گھر کے معاملات کو عوامی سطح پر شیئر نہیں کرتیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ آمنہ شیخ اور محب مرزا کی شادی 2019 میں طلاق پر ختم ہوئی جس کے بعد محب مرزا نے ساتھی اداکارہ صنم سعید سے شادی کرلی جس کا اعلان رواں سال کیا گیا۔
آمنہ شیخ نے بھی طلاق کے بعد دوسری شادی کرلی جس سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔