UrduPoint:
2026-06-03@04:22:42 GMT

موسمیاتی تبدیلی سے افریقہ بری طرح متاثر، ڈبلیو ایم او

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

موسمیاتی تبدیلی سے افریقہ بری طرح متاثر، ڈبلیو ایم او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2025ء) عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں شدید موسمی کیفیات افریقہ میں سماجی معاشی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی ہیں جس سے بھوک، عدم تحفظ اور نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ادارے کی جانب سے '2024 میں افریقہ کی موسمیاتی صورتحال' پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی براعظم میں اب تک کے گرم ترین 10 سال تھے جبکہ 2024 گرم ترین یا دوسرا گرم ترین برس تھا۔

Tweet URL

گزشتہ سال افریقہ میں زمین کا اوسط درجہ حرارت 1991 تا 2020 کی طویل مدتی اوسط سے تقریباً 0.

86 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

(جاری ہے)

اس دوران شمالی افریقہ میں یہ درجہ حرارت بلند ترین سطح (1.28 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچا۔ ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ افریقہ کا یہ ذیلی علاقہ انتہائی تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔سطح سمندر میں ریکارڈ اضافہ

2024 میں براعظم کے گرد سطح سمندر میں اضافے نے بھی ریکارڈ بلندیوں کو چھوا اور بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، 1993 میں جائزے کا عمل شروع ہونے کے بعد سمندری گرم لہریں بہت بڑے علاقے کو متاثر کرتی آئی ہیں جو براعظم کے گرد تقریباً تمام پانیوں کا احاطہ کرتا ہے۔

'ڈبلیو ایم او' نے کہا ہے کہ پانی کا بڑھتا درجہ حرارت سمندری ماحولیاتی نظام کو منفی طور سے متاثر کرتا ہے۔ اس سے گرم خطوں میں سمندری طوفان آ سکتے ہیں اور سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقے خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

آفات سے آگاہی کے نظام کی ضرورت

اس رپورٹ میں ناصرف موسمیاتی تبدیلی سے افریقہ کی زراعت، ماحول، خوراک، پانی، سلامتی، توانائی، صحت اور تعلیم کو لاحق مسائل اجاگر کیے گئے ہیں بلکہ یہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے مواقع اور ذرائع کا پتا بھی دیتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، موبائل مواصلاتی آلات اور موسم کی جدید انداز میں پیش گوئی کے نظام افریقہ بھر میں شدید موسمی واقعات کے بارے میں درست اطلاعات کی فراہمی میں مدد دے رہے ہیں۔

تاہم، ڈیجیٹل تبدیلی کی وسعت بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے، معلومات اور اطلاعات کے تبادلے کے مضبوط طریقہ ہائے اور خدمات کی مزید جامع طور سے فراہمی کی ضرورت ہے۔

'ڈبلیو ایم او' نے براعظم میں ہنگامی بنیاد پر موسمیاتی آفات سے آگاہی کے نظام قائم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادارے نے حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے سے کہا ہے کہ وہ موسمیاتی حوالے سے موثر سرمایہ کاری کی رفتار کو بھی تیز کریں۔

موسمیاتی تبدیلی اور سنگین حالات

'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ براعظم بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی سنگین صورتحال کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض ممالک کو شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کا سامنا ہے تو بعض متواتر خشک سالی اور پانی کی قلت کے مسائل سے دوچار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ڈبلیو ایم او' اور اس کے شراکت دار افریقہ بھر میں موسمیاتی حوادث سے بروقت آگاہی کے اہتمام پر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ان کی بدولت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ رپورٹ بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے اور کے لیے اجتماعی اقدامات کی راہ ہموار کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے موسمیاتی تبدیلی ڈبلیو ایم او

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے