UrduPoint:
2026-07-24@06:08:59 GMT

موسمیاتی تبدیلی سے افریقہ بری طرح متاثر، ڈبلیو ایم او

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

موسمیاتی تبدیلی سے افریقہ بری طرح متاثر، ڈبلیو ایم او

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 12 مئی 2025ء) عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں شدید موسمی کیفیات افریقہ میں سماجی معاشی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہی ہیں جس سے بھوک، عدم تحفظ اور نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ادارے کی جانب سے '2024 میں افریقہ کی موسمیاتی صورتحال' پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی براعظم میں اب تک کے گرم ترین 10 سال تھے جبکہ 2024 گرم ترین یا دوسرا گرم ترین برس تھا۔

Tweet URL

گزشتہ سال افریقہ میں زمین کا اوسط درجہ حرارت 1991 تا 2020 کی طویل مدتی اوسط سے تقریباً 0.

86 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

(جاری ہے)

اس دوران شمالی افریقہ میں یہ درجہ حرارت بلند ترین سطح (1.28 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچا۔ ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ افریقہ کا یہ ذیلی علاقہ انتہائی تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔سطح سمندر میں ریکارڈ اضافہ

2024 میں براعظم کے گرد سطح سمندر میں اضافے نے بھی ریکارڈ بلندیوں کو چھوا اور بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، 1993 میں جائزے کا عمل شروع ہونے کے بعد سمندری گرم لہریں بہت بڑے علاقے کو متاثر کرتی آئی ہیں جو براعظم کے گرد تقریباً تمام پانیوں کا احاطہ کرتا ہے۔

'ڈبلیو ایم او' نے کہا ہے کہ پانی کا بڑھتا درجہ حرارت سمندری ماحولیاتی نظام کو منفی طور سے متاثر کرتا ہے۔ اس سے گرم خطوں میں سمندری طوفان آ سکتے ہیں اور سطح سمندر میں اضافے سے ساحلی علاقے خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

آفات سے آگاہی کے نظام کی ضرورت

اس رپورٹ میں ناصرف موسمیاتی تبدیلی سے افریقہ کی زراعت، ماحول، خوراک، پانی، سلامتی، توانائی، صحت اور تعلیم کو لاحق مسائل اجاگر کیے گئے ہیں بلکہ یہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے مواقع اور ذرائع کا پتا بھی دیتی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، موبائل مواصلاتی آلات اور موسم کی جدید انداز میں پیش گوئی کے نظام افریقہ بھر میں شدید موسمی واقعات کے بارے میں درست اطلاعات کی فراہمی میں مدد دے رہے ہیں۔

تاہم، ڈیجیٹل تبدیلی کی وسعت بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے، معلومات اور اطلاعات کے تبادلے کے مضبوط طریقہ ہائے اور خدمات کی مزید جامع طور سے فراہمی کی ضرورت ہے۔

'ڈبلیو ایم او' نے براعظم میں ہنگامی بنیاد پر موسمیاتی آفات سے آگاہی کے نظام قائم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادارے نے حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے سے کہا ہے کہ وہ موسمیاتی حوالے سے موثر سرمایہ کاری کی رفتار کو بھی تیز کریں۔

موسمیاتی تبدیلی اور سنگین حالات

'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ براعظم بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی سنگین صورتحال کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض ممالک کو شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کا سامنا ہے تو بعض متواتر خشک سالی اور پانی کی قلت کے مسائل سے دوچار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ڈبلیو ایم او' اور اس کے شراکت دار افریقہ بھر میں موسمیاتی حوادث سے بروقت آگاہی کے اہتمام پر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ان کی بدولت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ رپورٹ بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے اور کے لیے اجتماعی اقدامات کی راہ ہموار کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے موسمیاتی تبدیلی ڈبلیو ایم او

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق