دنیا میں غلط فہمی تھی کہ بھارت کو روایتی اور غیر روایتی برتری حاصل ہے، حنا ربانی کھر
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
سابق وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر—فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ دنیا میں غلط فہمی تھی کہ بھارت کو روایتی اور غیر روایتی برتری حاصل ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس غلط فہمی کو پاکستان نے نہیں، خود بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے توڑا۔
حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا ہے یہاں کوئی ملک دشمن نہیں۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ کوئی دو رائے نہیں کہ جنگ میں پاکستان کی جیت ہوئی ہے، بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خوشی منانا کہ ہم نے بھارت کو کتنے برے طریقے سے ہرایا خوشی کی بات نہیں ہے، دو نیوکلیئر ریاستیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مودی فیصلہ کرتے ہیں کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کیا ہم یہ بات سر جھکا کر مان لیں؟ پاکستان کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حنا ربانی کھر بھارت کو کا کہنا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :