اسرائیلی فورسز کی غزہ پر صبح سویرے بمباری، 12 گھنٹے میں 119 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اتوار کو صبح سویرے غزہ پر صہیونی فورسز کی بمباری سے کم از کم 74 فلسطینی شہید ہوگئے، جنگی جرائم میں ملوث نیتن یاہو کی فورسز نے غزہ کے نام نہاد ’سیف زون‘ المواسی میں بھی بمباری کی، 12 گھنٹوں میں 119 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ شدید حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب اسرائیل غزہ پر ایک نئے زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے، اور قطر میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات دوبارہ شروع کر چکا ہے۔
بغداد میں عرب لیگ کے اجلاس میں شریک 22 ممالک کے رہنماؤں نے اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ محصور علاقے میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
یاد رہے کہ گزشتہ 3 دن کے دوران اسرائیلی حملوں میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی جنگ میں اب تک کم از کم 53 ہزار 272 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 20 ہزار 763 زخمی ہو چکے ہیں۔
حکومت کے میڈیا دفتر نے شہادتوں کی تعداد 61 ہزار 700 سے زائد بتائی ہے، اور کہا ہے کہ ملبے تلے دبے ہزاروں لاپتہ افراد کو بھی مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں تقریباً ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
یمن سے داغا گیا میزائل روک دیا، اسرائیل
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ میزائل داغے جانے کے بعد وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اسرائیلی چینل 12 نے بھی فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمن سے ایک دوسرا میزائل داغنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن وہ ناکام رہی۔
یمن کے حوثی جنگجو اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ حملے غزہ کے فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی سفارتخانے کی فلسطینیوں کی لیبیا منتقلی کی تردید
لیبیا میں امریکی سفارتخانے نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے لیبیا منتقل کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے۔
The report of alleged plans to relocate Gazans to Libya is untrue.
— U.S. Embassy – Libya (@USEmbassyLibya) May 17, 2025
’ایکس‘ پر ایک مختصر پوسٹ میں سفارتخانے نے کہا کہ غزہ کے باشندوں کو لیبیا منتقل کرنے کے مبینہ منصوبے کی رپورٹ درست نہیں ہے۔
جمعرات کو این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت غزہ کی پٹی سے 10 لاکھ فلسطینیوں کو مستقل طور پر لیبیا منتقل کیا جائے گا۔
این بی سی نیوز نے 5 افراد کا حوالہ دیا، جن میں سے 2 کو براہ راست اور ایک کو سابق امریکی عہدیدار ہونے کے ناطے معاملے کا علم تھا۔
طرابلس میں قائم بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتِ وحدتِ قومی نے تاحال اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں امریکا غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالے اور وہاں کے فلسطینیوں کو کہیں اور آباد کرے۔
فلسطینی ایسے کسی بھی منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، جس میں انہیں غزہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، اور وہ ان خیالات کو 1948 کے ’نکبہ‘ (تباہی) سے تشبیہ دیتے ہیں، جب لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور اسی کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تھا۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلسطینی شہید فلسطینیوں کو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں