بھارت اور اسرائیل کو ہی نہیں انکے سہولت کاروں کو بھی شکست ہوئی، خواجہ سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے کہا کہ اللّٰہ کریم نے پاکستان کو بہت بڑی نصرت اور فتح عطاء فرمائی ہے۔ پہلگام واقعے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بار بار کہا کہ تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔ ہمارے فوجی جوانوں نے دشمن کے مورچے اڑائے، بریگیڈ ہیڈ کوارٹر ز تباہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کو ہی نہیں ان کے سہولت کاروں کو بھی شکست ہوئی۔ لاہور میں ایوانِ اقبال میں یومِ تشکر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اللّٰہ کریم نے پاکستان کو بہت بڑی نصرت اور فتح عطاء فرمائی ہے۔ پہلگام واقعے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بار بار کہا کہ تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔ ہمارے فوجی جوانوں نے دشمن کے مورچے اڑائے، بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تباہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔