ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے سردار آصف نے C/16 کا ایوارڈ سنا دیا ، 1078 پلاٹس کے حقدار،،، 47 حویلیاں کا رقبہ کم ، دستاویز و تفصیلات سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے سردار آصف نے C/16 کا ایوارڈ سنا دیا ، 1078 پلاٹس کے حقدار،،، 47 حویلیاں کا رقبہ کم ، دستاویز و تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 12 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے سردار آصف نے سی سولہ کے بی یو پی کے ایوارڈ کا اعلان کر دیا، 1078 پلاٹس کے حقدار ، 47 حویلیاں کا رقبہ کم قرار دیا گیا۔سب نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سپارکو کی جانب سے 1125حویلیوں کا سروے دیا گیا تھا جن میں سے47حویلیاں 300سکویئر فٹ سے کم واقع ہوئی ہیں۔1078شہریوں کے ناموں کی لسٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق وہ پلاٹ لینے کے اہل قرار پائے ہیں۔سی سولہ کے ایوارڈ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ڈائریکٹوریٹ ،تحصیلداراور کونسل نے بھی شرکت کی جبکہ ڈی جی ورکس کی جانب سے سروے پر نظر ثانی کا کام کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت ، امن جرگے کا اعلامیہ جاری خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع میں دہشت گردی کی مذمت ، امن جرگے کا اعلامیہ جاری عرفان صدیقی کی یاد میں سینیٹ کا تعزیتی اجلاس، اسلام آباد اور وانا دھماکے کے شہدا کیلئے بھی دعا آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے بھی منظور,حکومت کو دو تہائی حمایت حاصل،4ممبران کی مخالفت،پی ٹی آئی کا بائیکاٹ خورشید شاہ 27 ویں آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کیلئے وھیل چیئر پر پارلیمنٹ پہنچ گئے طالبان رجیم کا تاجروں کو پاکستان کیساتھ3ماہ میں تجارت ختم کرنے کا حکم آئینی ترمیم جمہوریت کی تکمیل،کسی کا باپ بھی ختم نہیں کر سکتا،بلاول بھٹوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سب نیوز
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔