Islam Times:
2026-07-24@03:20:56 GMT

صدرٹرمپ اور مسئلہ کشمیر!اجی بہت خوب

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

صدرٹرمپ اور مسئلہ کشمیر!اجی بہت خوب

اسلام ٹائمز: ایسے شخص سے یہ امید باندھنا کہ وہ اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن پاکستان اور مسلمانوں کی مدد کرے گا اور بقول ان کے کشمیر کا ’’ہزار سال سے جاری بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سے پرانا‘‘ مسئلہ حل کردے گا صحرا کے بگولوں کا تاج سر پر رکھنے کے مترادف ہے۔ اسرائیل عربوں کو اب اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ وہ ایٹمی پاکستان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کے سب سے بڑے دوست ہیں۔ ایسے دوست اسرائیل کی تاریخ میں ان جیسا دوست آج تک اسرائیل کو نہیں ملا۔ وہ سر قلم کروا کر بھی ایسے دوست کے دشمن کی مشکل آسان نہیں کرسکتے۔ تحریر: بابا الف

ایک مولوی سے کہا گیا ’’ذرا فحاشی کی تعریف تو کردیں‘‘ بولے ’’کس مائی کے لال میں اتنی ہمت ہے کہ ہمارے آگے فحاشی کی تعریف کرسکے‘‘۔ کچھ ایسی ہی صورت صدر ٹرمپ کے باب میں ہمارے یہاں تھی۔ کس میں اتنی جرأت کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے باوجود اسرائیل کی بے حدوحساب سپورٹ اور غزہ پر قبضے کے ارادے کے بعد پاکستان میں صدر ٹرمپ کی تعریف کرسکے؟ لیکن جب سے انہوں نے چار روزہ جنگ میں بھارت اور پاکستان کے ساتھ برابری کا سلوک کیا ہے اور مسئلہ کشمیر حل کروانے کا عندیہ دیا یہاں وہ حال ہوگیا:
نکل گیا جو زباں سے تیرے حرف
پھر نہ وہ اپنے کان سے نکلا

کہا جاتا ہے کہ طوائف کسی عورت کا نام نہیں، ایک کیفیت ہے جو مرد پر بھی آسکتی ہے لیکن صدر ٹرمپ پر ایسی کیفیت کا طاری ہونا جس میں مسلمانوں کی خیر ہو! ناممکن۔ تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر حل کروانے کے اظہار پر کچھ ارباب حل وعقد اس طرح خوش ہیں کہ پتا نہیں چل رہا کہ ان کا قہقہہ، قینچی والے کاف سے لکھنا ہے یا کوّے والے کاف سے جو ہنس کی چال چل پڑا ہے۔ ویسے کلموہے اور کلجگ والے کاف سے بھی لکھا جاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اور کل جگ کے کمبی نیشن پر وارث شاہ کا ایک شعر سنیے:
کل جگ سچا کوئی نہ لبھدا
جھوٹے جگ دے ویہڑے وچ وسنا اے
ساری دنیا میں کوئی سچا نہیں ملتا، ہمیں جھوٹ کے نگر میں ہی رہنا ہے۔
بات پنجابی صو فی شعراء کی چل نکلی ہے تو پھر شوق کو قرار کہاں۔ ایک شعر بابا بلھے شاہ کا بھی ملاحظہ ہو:
کل جگ پھاہی ویکھدا
سانوں عشق پھانسیا
ساری دنیا نے پھانسی کا تماشا دیکھا، ہم عشق میں پھنس گئے۔

صوفیانہ شاعری دنیا کی ناپائیداری، ریاکاری اور عشق حقیقی کی راہ میں تنہائی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسلام بھی مسلمانوں کا ایسا ہی عشق ہے، دنیا میں جس کے نفاذ میں وہ تنہا ہیں۔ کوئی اور بے لوث ہوکر مسلمانوں کا مسئلہ حل کرسکے، ان کے بکھرے اجزا کو یکجا کرسکے اور خصوصاً صدر ٹرمپ جیسا کردار، ایسا ممکن نہیں ہے۔ سچ بولنا اور شرافت ونجابت کا مظاہرہ کرنا صدر ٹرمپ کے لیے دنیا کا مشکل ترین کام ہے اس لیے وہ روز ایک نئی حقیقت ایجاد کر لیتے ہیں۔ سچ ان کے نزدیک فلم کے سیٹ پر جنت کا سین ہے۔ وہ باتوں کے استرے سے مونڈنے کے ماہر ہیں۔ اگر موج میں آئیں تو شبنم کے قطروں کو بھی آلہ خودکشی ثابت کردیں۔ ان کی یاداشت ہر جھوٹے کی طرح انتہائی کمزور اور اعتماد چٹان سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ ٹرمپ کی سچائی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کا منہ کس کی طرف ہے اور وہ کس چینل پر آرہے ہیں۔ ٹرمپ ایک ایسا جادوگر ہے جو کچھ بھی دکھا سکتا ہے اور کچھ بھی غائب کرسکتا ہے۔

کسی بھی دن اپنی پرانی بات کو غائب کردینا، اس کی تردید کردینا اور پھر اگلے دن اسے حقیقت تسلیم کر لینا ان کے لیے ایسا ہی ہے جیسے غسل خانے میں پانی بہانا۔ وہ مدد بھی اس طرح ما نگتے ہیں ’’کیا آپ کے پاس اس غریب کی مدد کے لیے کچھ ہے جس کی جیب میں بھرے ہوئے پستول کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘۔ دیکھ لیجیے اپنے کل کے چہیتے وزیراعظم نریندر مودی کی سیز فائر کے معاملے میں انہوں نے کس طرح مدد کی اور اب کس طرح بھگو بھگو کر ان کی تشریف لال کررہے ہیں۔ ایسے شخص سے یہ امید باندھنا کہ وہ اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن پاکستان اور مسلمانوں کی مدد کرے گا اور بقول ان کے کشمیر کا ’’ہزار سال سے جاری بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ عرصے سے پرانا‘‘ مسئلہ حل کردے گا صحرا کے بگولوں کا تاج سر پر رکھنے کے مترادف ہے۔

اسرائیل عربوں کو اب اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ وہ ایٹمی پاکستان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کے سب سے بڑے دوست ہیں۔ ایسے دوست اسرائیل کی تاریخ میں ان جیسا دوست آج تک اسرائیل کو نہیں ملا۔ وہ سر قلم کروا کر بھی ایسے دوست کے دشمن کی مشکل آسان نہیں کرسکتے۔ ممکن ہے پاک بھارت حالیہ جنگ میں بریفنگ کے دوران مسئلہ کشمیر کسی عنوان ذکر ہو گیا ہو تو صدر ٹرمپ نے اس چکنے اور پھسلنے تختے کو دنیا میں جنگوں کے خاتمے کے اپنے دعووں کی تشریف فرمائی کے لیے چن لیا ہو۔ کب وہ اس چکنے تخت سے پھسل کر اسے فراموش کردیں کیا مشکل ہے۔

اگست 2019 میں جب مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو ختم کرکے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرکے اسے بھارت میں ضم کرلیا جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، شملہ معاہدے اور پاک بھارت دو طرفہ تعلقات کے خلاف تھا، اس فیصلے نے پاکستان میں شدید غم وغصے کو جنم دیا تھا تب وزیراعظم عمران خان پر ریاستی ردعمل کا اظہار کرنے کے لیے بے تحاشا دبائو ڈالا گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اس ردعمل کو ٹھس کردیا ’’کیا میں انڈیا سے جنگ کرلوں؟ انڈیا پر حملہ کردو ں؟ انڈیا سے جنگ چھیڑدوں‘‘۔

ان میں سے کسی بات کا یارا تو ان کو نہیں تھا لیکن اگر ہمت اگر کچھ تھی تو ’’12 سے 12:30 تک کشمیر آور‘‘ منانے اور اقوام متحدہ میں بھارتی فسطائیت، آر ایس ایس کے نظریہ اور ممکنہ ایٹمی جنگ کے خطرے کو اس طرح اجاگر کرنے کی جیسے پہلی مرتبہ یہ باتیں دنیا کے علم میں لائی جارہی ہوں۔ جنرل باجوہ بھی بس یہ کہہ کررہ گئے ’’پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھر پور جواب دیا جائے گا‘‘۔ اسی زمانے میں غیر مصدقہ ذرائع میں جنرل باجوہ سے منسوب یہ بیان بھی گردش کررہا تھا کہ ’’اگر جنگ چھڑ گئی تو ہمارے ٹینکوں میں پٹرول بھی نہیں ہوگا‘‘۔

وزیراعظم مودی کے لیے یہ بیٹھے ہوئے اونٹ پر چڑھنے جیسی دل لبھانے والی صورتحال تھی جس کے بعد انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم نے کشمیر کا دیرینہ مسئلہ حل کردیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھی کشمیر کے باب میں ایسی ہی خاموشی اختیار کی گئی جیسے یہ مسئلہ وجود ہی نہ رکھتا ہو اور اس پر خاک ڈال دی گئی ہو۔ 22 اپریل کو بھارت کے خودکردہ پہل گام سانحہ کے بعد جب عالمی میڈیا نے اسے تنازع کشمیر کے حوالے سے دیکھنا شروع کیا اور صدر ٹرمپ سمیت عالمی رہنمائوں نے کشمیر کو متنازع مسئلہ قرار دیا تب وہ پاکستانی حکمران جو مسئلہ کشمیر کی تجہیز وتکفین کر چکے تھے، جھر جھری لے کر بیدار ہوگئے اور ان مہاتمائوں کو کشمیر کے درختوں کی چھائوں میں نروان حاصل ہونے لگا۔

چار روزہ جنگ میں جب بھارت کو اس کی تاریخ کی سب سے ذلت آمیز شکست دی گئی اور پوری دنیا کا میڈیا، حکومتیں اور عالمی رہنما مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دے رہے تھے، کشمیر کے معاملے میں ایک فیصلہ کن پیش رفت کا پاکستان کے پاس بہترین موقع تھا، بھارت پوری طرح گرفت میں آگیا تھا، پاکستانی افواج کے لیے ناممکن نہیں تھا کہ وہ کشمیر کے محاذ کو گرم کرسکیں، بعد میں جو کچھ ہوتا دیکھا جاتا۔ پاکستان صدر ٹرمپ کے کہنے میں آ گیا کہ امریکا اس معاملے میں ثالثی کرواکر اس مسئلے کو حل کروادے گا۔ کیا ہمیں علم نہیں امریکا کی ثالثی کس کے حق میں جائے گی۔ 1948 سے لے کر 1965 اور کارگل کی جنگ تک یہ امریکا ہی تھا جو پاکستان سے ثالثی کے وعدے کرکے اس مسئلے کو سات دہا ئیوں سے بھی پرانا مسئلہ بنا چکا ہے۔ 10 مئی کو لگتا ہے ہم نے ایک بار پھر کشمیر کو گنوادیا ہے۔

بشکریہ: جسارت ڈاٹ کام

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے سب سے بڑے مسئلہ کشمیر صدر ٹرمپ کے ایسے دوست انہوں نے کشمیر کے مسئلہ حل کے لیے ہے اور سے بھی

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم