UrduPoint:
2026-06-03@02:37:37 GMT

غزہ: امداد کی ترسیل لوگوں کی ضرورت کے مقابلے میں ناکافی

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

غزہ: امداد کی ترسیل لوگوں کی ضرورت کے مقابلے میں ناکافی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 21 مئی 2025ء) تین ماہ کے بعد بالآخر غزہ میں انسانی امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے لیکن اس کی مقدار جنگ سے تباہ حال 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ شہریوں تک تیزرفتار اور براہ راست امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اسرائیل کے ساتھ کیریم شالوم کے سرحدی راستے سے غزہ میں آٹا، ادویات اور غذائیت کا سامان اور دیگر چیزیں لا رہے ہیں۔

Tweet URL

نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز بچوں کا فارمولا دودھ اور انہیں غذائیت کی فراہمی کے لیے درکار اشیا علاقے میں لائی گئی تھیں۔

(جاری ہے)

تیزی سے بڑھتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غزہ میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

طویل وقت تک امداد بند رہنے سے غزہ کی پوری آبادی قحط کےدھانے پر ہے جبکہ اس پر فضا سے بمباری بھی جاری ہے اور اسرائیل کی فوج کے احکامات پر آبادی کا بڑا حصہ متواتر نقل مکانی پر مجبور ہے۔

پیچیدہ امدادی کارروائی

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز کیریم شالوم کی سرحد پر امدادی سامان کے 9 ٹرکوں کو غزہ میں بھیجنے کے لیے کلیئر کیا تھا لیکن ان میں سے پانچ کو ہی روانگی کی اجازت مل سکی۔

سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حکام کیریم شالوم کی فلسطینی سمت میں سامان کو ٹرکوں سے اتارتے ہیں۔ اس کے بعد غزہ کے اندر امدادی ٹیموں کو رسائی ملنے کے بعد اس سامان کو دوبارہ ٹرکوں پر لادا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی اس سامان کو غزہ میں ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ منگل کو اقوام متحدہ کی ٹیم کو امداد اٹھانے کی اجازت ملنے کے لیے ایک پناہ گاہ کے قریب کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

اس طرح اگرچہ غزہ میں مزید امدادی سامان آ چکا ہے لیکن اسے امدادی اداروں کے گوداموں اور تقسیم کے مراکز پر نہیں پہنچایا جا سکا۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کو اسرائیل کی جانب سے تقریباً مزید 100 ٹرک غزہ میں لانے کی اجازت مل گئی ہے لیکن امداد کی یہ مقدار بھی انتہائی ناکافی ہے۔

مایوسی اور لوٹ مار

'اوچا' کے ترجمان جینز لائرکے نے کہا ہے کہ امداد کی قلت کے باعث غزہ میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

ان حالات میں امدادی سامان کی لوٹ مار کا خطرہ ہے۔ لوٹی جانے والی چیزیں بعدازاں بھاری قیمت پر بیچ دی جاتی ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر امداد مہیا کی جائے تو یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کی ترجمان لوسی ویٹریج نے کہا ہے کہ امدادی سامان کے پانچ ٹرک کافی نہیں۔ اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک امدادی گودام سے جنیوا میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے اردگرد امداد کے ڈھیر لگے ہیں جو ایک ماہ کے لیے دو لاکھ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس امداد کو غزہ میں ہونا چاہیے جہاں گودام خالی پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بہت کچھ کر سکتا ہے اور اس نے کر دکھایا ہے۔ جنگ بندی ہوئی، بمباری تھم گئی اور انسانی امداد غزہ میں پہنچی۔ ادارے نے علاقے میں ہر جگہ ضروت مند لوگوں تک رسائی حاصل کی اور بچوں، بوڑھوں سمیت سبھی کو مدد پہنچائی۔

تباہ کن حملے اور نقل مکانی

حالیہ دنوں غزہ پر اسرائیل کی بمباری میں سیکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

غزہ کے طبی حکام نے بتایا ہے کہ سوموار کو اسرائیلی فوج نے انڈونیشین ہسپتال پر حملہ کیا جس سے اس کے جنریٹر متاثر ہوئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ اس وقت مریضوں اور طبی عملے سمیت 55 لوگ ہسپتال میں موجود تھے۔

وسطی غزہ کے علاقے نصیرت پر اسرائیل کے فضائی حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 'انروا' کے عملے کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔

اس طرح 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں ادارے کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسرائیل نے آج (منگل کو) غزہ کے 26 علاقوں سے لوگوں کو انخلا کا حکم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے شراکت داروں کا اندازہ ہے کہ اس حکم کے نتیجے میں 41 ہزار سے زیادہ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ 15 مئی کے بعد جنوبی غزہ سے 57 ہزار اور شمالی علاقے سے 81 ہزار لوگ انخلا کر چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ کے نے کہا ہے کہ نے بتایا امداد کی کے بعد کے لیے غزہ کے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان