غزہ میں جارحیت، یورپی یونین کا اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا کہ امداد نہ پہنچی تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار فلسطینی بچے مر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ حکام کے مطابق گذشتہ روز پانچ امدادی ٹرک غزہ میں پہنچے، لیکن اسرائیلی فوج نے امداد تقسیم نہ ہونے دی۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں جاری جارحیت پر اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی سفارتی اجلاس ہوا، جس میں یورپی یونین نے اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا۔ اسرائیل اور یورپی یونین میں تجارت 45 ارب یورو سالانہ سے زائد ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل سے تجارتی، سفارتی معاہدوں پر نظرثانی کی قرار داد نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ نے شروع کی۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر 17 یورپی وزرائے خارجہ نے نظرثانی کی حمایت کی۔ نیدر لینڈز کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی ناکہ بندی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، جبکہ یورپی یونین عہدیدار کاجا کالاس نے کہا کہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ کیلئے امدادی رسد جاری کرنی چاہیئے۔ یورپی میڈیا کے مطابق 26 یورپی ممالک نے مغربی کنارے میں پرتشدد آبادکاروں پر پابندیوں کی حمایت کی، صرف ہنگری نے قرارداد کو ویٹو کیا۔
سوئیڈن کے وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیلی وزیروں پر بھی یورپی پابندیوں کی تجویز پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیئے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے غزہ کی ناکہ بندی کو "اخلاقی طور پر غلط" اور "غیر معقول" قرار دیا اور پارلیمنٹ کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت کے "قابل مذمت اقدامات اور بیان بازی" ملک کو اپنے دوستوں اور شراکت داروں سے الگ تھلگ کر رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا کہ امداد نہ پہنچی تو اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار فلسطینی بچے مر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ حکام کے مطابق گذشتہ روز پانچ امدادی ٹرک غزہ میں پہنچے، لیکن اسرائیلی فوج نے امداد تقسیم نہ ہونے دی، وہیں اسرائیل کے غزہ پر وحشیانہ حملے جاری ہیں اور صبح سے اب تک مزید 73 فلسطینی شہید ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے کی ناکہ بندی اقوام متحدہ یورپی یونین اسرائیل سے کے مطابق غزہ کی
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں