چین اور یورپی یونین حریف کے بجائے شراکت دار ہیں، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
چین اور یورپی یونین حریف کے بجائے شراکت دار ہیں، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 July, 2025 سب نیوز
برسلز : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلی نمائندے کاجا کالاس کے ساتھ چین اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 13 ویں دور کا انعقاد کیا۔
جمعرات کے روز چینی میڈیا کے مطا بق وانگ ای نے کہا کہ چین اور یورپی یونین حریف کے بجائے شراکت دار ہیں اور فریقین کو اس فریم ورک کے اندر مواصلات کے ذریعے اپنے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنا چاہئے.
وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور یورپی یونین کو باہمی احترام اور ایک دوسرے کی مرکزی دلچسپی پر غور کرنے کو ترجیج دینا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین ٹھوس انداز میں ایک چین کے اصول پر عمل کرے گا۔کاجا کا لاس نے کہا کہ یورپی یونین ایک چین کے اصول پر قائم رہتا ہے اور چین کے ساتھ مل کر چین- یورپی یونین کی سربراہی ملاقات کی تیاری کے لیےتیار ہے تاکہ مزید تعمیراتی یورپ چین تعلقات کو فروغ دیا جائے اور مزید متوازن اور منصفانہ معاشی و تجارتی تعاون بڑھایا جائے۔فریقین نے یوکرین کے بحران ، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصادم اور ایران کے جوہری مسئلے سمیت دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرباہمی رابطے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے، وزیر ٹرانسپورٹ عبدالعلیم خان عوام کیلئے بری خبر!!! حکومت نے نیشنل سیونگز اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کر دی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انڈیکس پہلی بار 1 لاکھ 31 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے حصول کیلئے نتیجہ خیز شراکت داری کیلئے پرعزم ہیں، وزیرخزانہ پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ نوجوانوں کو تاریخی مشن کو انجام دینےکاروشن باب رقم کرنا ہوگا، چینی صدر ’’میڈ اِن چائنا‘‘سے لے کر’’ چینی برانڈز‘‘تک ، یہ چین کی اعلیٰ معیاری ترقی کا نتیجہ ہے، چینی وزارت خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین اور یورپی یونین
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔