غزہ :یورپی یونین کا امدادی مراکز کی صورتحال پر اظہارِ برہمی، اسرائیلی فاؤنڈیشن سے لاتعلقی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: یورپی یونین نے غزہ میں سرگرم ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف)‘‘ کے امدادی مراکز کے گرد پیش آنے والے واقعات کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور فوری طور پر تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق یورپی کمیشن کے ترجمان اناؤر الانونی نے برسلز میں ایک پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے امدادی مراکز کے گرد جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ناقابل برداشت ہے، یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ تشدد کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ انسانی امداد کو نہ تو سیاسی بنایا جانا چاہیے اور نہ ہی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایسی امداد اقوام متحدہ کے زیر نگرانی، بنیادی انسانی اصولوں کے مطابق فراہم کی جانی چاہیے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یورپی یونین نہ صرف جی ایچ ایف کی اس امدادی مہم کو مالی معاونت فراہم نہیں کر رہی بلکہ اس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون بھی نہیں کر رہی۔ “ہم اس منصوبے کی نہ مالی مدد کر رہے ہیں، نہ ہی اس سے کسی سطح پر تعاون کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک 57 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اسرائیلی حملوں سے غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ خوراک کی قلت اور وبائی امراض نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
خیال رہےکہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن جو ایک امریکی ادارہ ہے اور اسرائیل کی پشت پناہی سے کام کر نے والا ادارہ فلسطینیوں میں امداد تقسیم کرنے کے بجائے موت کی نیند سلا دیتے ہیں،حالیہ دنوں میں اس تنظیم سے منسلک امدادی مراکز پر امداد کے حصول کی کوشش کرنے والے کئی فلسطینی اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امدادی مراکز یورپی یونین
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔