اقوام متحدہ کی اسرائیل پر اسلحہ بندش، تجارتی پابندی اور مالی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنیوا: اقوام متحدہ میں فلسطینی علاقوں سے متعلق خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیزے نے اسرائیل پر ’نسل کشی کی مہم‘ چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کرے، تجارتی و مالی تعلقات منقطع کرے اور اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے فرانچیسکا البانیزے نے کہا کہ فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں صورتحال قیامت خیز ہوچکی ہے اور اسرائیل جدید تاریخ کے بدترین نسل کشی کے مظالم کا ذمہ دار ہے۔
فرانچیسکا البانیزے نے اپنے تازہ ترین رپورٹ میں ان 60 سے زائد کمپنیوں کی نشاندہی کی جو ان کے بقول اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں میں معاونت فراہم کر رہی ہیں، یہ صرف ایک فہرست نہیں بلکہ ایک منظم نظام ہے، جسے بے نقاب کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔”
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی معاہدے معطل کیے جائیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث کمپنیوں کو قانونی طور پر جوابدہ بنایا جائے۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ماہر کی رپورٹ کو “قانونی طور پر بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور ان کے منصب کا کھلا غلط استعمال” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی برادری نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو انسانی تاریخ ایک اور سیاہ باب کی گواہ بنے گی۔
خیال رہےکہ اقوام متحدہ کی کونسل میں ان کے خطاب پر شرکاء کی جانب سے زوردار تالیاں بجائی گئیں، جنیوا میں اسرائیلی مشن کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جب کہ اسرائیلی نمائندہ اجلاس میں موجود نہیں تھا کیونکہ اسرائیل نے انسانی حقوق کونسل کو “یہودی مخالف تعصب کا شکار” قرار دے کر اجلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری فوجی کارروائیوں میں اب تک 57 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ لاکھوں افراد بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اس تازہ پیش رفت نے عالمی برادری کو ایک بار پھر اس مسئلے پر فیصلہ کن اقدامات کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی عالمی برادری اسرائیل پر کہ اسرائیل
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں