توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت وکلائے صفائی کی درخواست پر ملتوی کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
سٹی42 : توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت وکلائے صفائی کی درخواست پر ملتوی کردی گئی۔
اڈیالہ جیل میں اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کے روبرو توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت ہوئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں عظمیٰ خان اور نورین خان عدالت پہنچیں تاہم علیمہ خان، سہیل خان قاسم زمان کو جیل میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔
تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا بھی سماعت میں حاضر ہوئے جب کہ میڈیا کے 5 نمائندوں کو کوریج کی اجازت دی گئی۔ علاوہ ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، چوہدری ظہیر عباس اور عثمان گل بھی جیل عدالت میں موجود تھے۔
انجلینا جولی کا شہید خاتون فلسطینی صحافی کو خراج عقیدت ، ویڈیو وائرل
دورانِ سماعت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے 6 گواہ بھی عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر نے اس موقع پر کہا کہ 3 ماہ بعد کیس کی سماعت ہو رہی ہے، جرح کرنے کے لیے وکلا آج مصروفیات کے باعث نہیں آ سکے۔ آئندہ سماعت پر گواہوں پر جرح شروع کر دیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے وکلائے صفائی کی درخواست پر توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 26 مئی تک ملتوی کر دی ۔ آئندہ سماعت پر کیس کے چھٹے گواہ قیصر محمود پر جرح کی جائے گی اور توشہ خانہ ٹو کیس میں مزید گواہوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔
اسلام آباد ائیرپورٹ پر اے ایس ایف اہلکار کا مسافر پر مبینہ تشدد، واقعے کی ویڈیوز وائرل
خیال رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں 8 گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں اور وکلائے صفائی نے 7 گواہان پر جرح مکمل کرلی ہے،توشہ خانہ ٹو کیس کی آخری سماعت 17 فروری کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی، جس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل ارشد تبریز اور قوثین مفتی پیش ہوتے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 توشہ خانہ ٹو کیس کیس کی سماعت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔