جرمنی: 18 افراد کو زخمی کرنے کے الزام میں خاتون گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
جرمنی میں ایک خاتون نے چھریوں کے وار کر کے 18 افراد کو زخمی کردیا، خاتون کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
جرمن خاتون کے چھریوں کے وار سے زخمی ہونے والوں میں 4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پولیس 39 سالہ خاتون کو گرفتار کیا جس پر الزام ہے کہ اس نے شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر تنہا ہوتے ہوئے حملہ کرکے کئی لوگوں کو زخمی کیا۔
پولیس نے بتایا کہ خاتون تحویل میں ہے اور اس کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس نے میڈیا کو بتایا ہے کہ بظاہر ان حملوں کے پیچھے کوئی سیاسی مفاد کارفرما نظر نہیں آرہا، ملزمہ کی دماغی حالت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ بظاہر یہ حملے اندھا دھند کارروائی نظر آرہے، ان حملوں میں کچھ راہگیر شدید زخمی ہوئے تاہم ان تمام حملوں کے پس منظر سے پولیس تاحل لاعلمی ظاہر کر رہی ہے۔
جرمن وزیرداخلہ الیگزینڈر ڈوبرینٹ نے کہا ہے کہ وہ زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ ہیں اور مسافروں پر اس قسم کا حملہ دل دہلادینے والا ہے، اس موقع پر وزیر داخلہ نے ایمرجنسی سروسز کی بھی تعریف کی۔
ہیمبرگ کا ریلوے اسٹیشن شہر کے مصروف حصوں میں ایک ہے، شہر کی ایک ویب سائٹ کے مطابق یہاں روزانہ ساڑھے 5 لاکھ مسافر آتے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک