ڈی پورٹ ہونے والوں سے آئندہ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی: وزیرداخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والوں سے آئندہ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
وزیرِ داخلہ کی ہدایت پر پاسپورٹ کے قوانین مزید سخت اور بہتر بنانے کے لیے سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت ہونے والے اہم اجلا س میں اہم فیصلے لیے گئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ڈی پورٹ ہونے والے ملک کیلئے بین الاقوامی سطح پر شرم کا باعث بن رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پاکستان میں کان کنی اور آئی ٹی سیکٹر میں امریکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کی صدرات میں ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والوں کے پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی پورٹ ہونے والوں کو 5 سال کےلیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ڈالا جائے گا۔
وزیرِ داخلہ کی ہدایت پر پاسپورٹ کے قوانین مزید سخت اور بہتر بنانے کیلئے سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: داخلہ محسن نقوی ہونے والے داخلہ کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔