وزیراعظم شہبازشریف کی ترک صدارتی محل میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
انقرہ: وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدارتی محل میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار،آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملاقات میں شریک تھے۔
ترک میڈیا کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی ترک صدارتی محل آمد پر ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا، استقبال کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر سے ملاقات کی،ملاقات میں پاک ترک تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی، پاکستان کے وفد میں فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر شامل تھے،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار،وزیراطلاعات عطاتارڑ اور معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی وفد میں شامل ہیں۔
جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد ترک عوام اور بالخصوص صدر ایردوان کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے حالیہ پاک، بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کے اصولی موقف کی بھرپور حمایت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ترکیہ کے صدر
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔