فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خطے میں امن، تجارت اور پانی کے مسئلے پر ہمسایہ ملک سے بات کرنے کو تیار ہیں، جارحیت ہوگی تو اس کا بھرپور جواب دیں گے، پرامن نیو کلیئر پروگرام کے لیے ایران کی حمایت کرتے ہیں۔

ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران پاکستانیوں کےلیے دوسرا گھر ہے، برادر ملک ایران کا دورہ کرکے دلی مسرت ہوئی، ایرانی صدر کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات ہوئی، تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا، مسعود پزشکیان نے ٹیلیفون کرکے خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، پاکستانی عوام کےلیے ان کے جذبات پر مشکور ہوں۔

وزیرِاعظم دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر ایرانی حکام نے استقبال کیا

وزیرِاعظم شہباز شریف دو روزہ دورہ ایران کے لیے تہران پہنچ گئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج نے دلیرانہ کارروئی کی، پاکستان پر امن ملک ہے، خطے میں امن و سلامتی چاہتا ہے، امن کی خاطر بات چیت کے لیے تیار ہیں، پانی کے مسئلے، انسداد دہشتگردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، جارحیت ہوگی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت، تمام تنازعات بات چیت کے ذریعےحل کرنا چاہتے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں اور خطے میں امن کے لیے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، 50 ہزار سے زائد لوگ شہید ہوگئے، وقت کاتقاضہ ہے کہ عالمی برادری غزہ میں فوری، دیرپا جنگ بندی یقینی بنائے، پاکستان اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر پاکستان اور ایران کا موقف یکساں ہے، وزیراعظم شہباز شریف سے معیشت سیاست سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی ، سرحدی علاقے میں انسداد دہشتگردی کیلئے دو طرفہ قریبی تعاون ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ