ایران(نیوز ڈیسک)ایران کے جنوبی شہر شیراز کی فوجداری عدالت کے جج کو منگل کی صبح کام پر جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔

نجی اخبارمیں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق عدلیہ کے ترجمان نے آن لائن رپورٹ کیا کہ صبح 2 افراد نے شیراز میں فوجداری عدالت نمبر 2 کی شاخ 102 کے سربراہ جج احسان باقری پر حملہ کیا اور انہیں قتل کر دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بدقسمتی سے، اس دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں جج احسان بقری شہید ہو گئے، حملہ آور تاحال مفرور ہیں اور قتل کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

احسان باقری کی عمر 38 سال تھی، وہ 12 سال سے عدالت میں فرائض انجام دے رہے تھے، مقتول جج صوبہ فارس کے رہائشی تھے، جس کا دارالحکومت شیراز ہے، جو تہران سے تقریباً 900 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

جج احسان باقری کئی شہروں میں انقلابی عدالتوں کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے، انہیں فوجداری عدالت کی شاخ 102 کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی نے اس قتل کی خصوصی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب جنوری میں ایران کی سپریم کورٹ کے اندر ایک نایاب حملے میں 2 ججوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی تھی، جسے عدلیہ نے منصوبہ بند قتل کی کارروائی قرار دیا تھا، جس میں سینئر جج علی رضینی اور محمد مقیسہ مارے گئے، اس کے بعد حملہ آور نے خودکشی کر لی تھی۔ دونوں جج اہم قومی سلامتی کے مقدمات کی سماعت کر چکے تھے۔

حکام نے اس وقت بتایا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں، لیکن حملے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی تھی۔

پیر کی رات، شیراز شہر میں ہی ایک شخص نے 4 افراد کو قتل کر دیا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اسے گولی مار کر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر اور کوچ کے پاؤں میں زخم، ٹانگیں کاٹ دی گئیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: فوجداری عدالت کر دیا

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا