300 ملین نوری سال پر واقع عظیم الجثہ بلیک ہول 20 سال بعد متحرک، ماہرین فلکیات میں ہلچل
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
نیویارک(اوصاف نیوز)عظیم الجثہ بلیک ہول 20 سال بعد متحرک ہوگیا، ماہرین فلکیات میں ہلچل مچ گئی،سائنسدانوں نے ایک ایسا شاندار فلکیاتی واقعہ ریکارڈ کیا جو پہلے کبھی براہِ راست نہیں دیکھا گیا۔ ایک خاموش بلیک ہول اچانک متحرک ہو گیا۔
یہ واقعہ کہکشاں SDSS1335+0728 میں پیش آیا، جو زمین سے تقریباً 300 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے یہ کہکشاں پرسکون اور غیر متحرک نظر آتی تھی، لیکن 2019 کے آخر میں اس کی چمک میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یہ کہکشاں جس کا مرکز ایک عظیم بلیک ہول ہے (جس کا وزن سورج کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ ہے)، اچانک الٹرا وائلٹ، آپٹیکل، اور انفراریڈ روشنی خارج کرنے لگی اور 2024 کے اوائل میں اس نے ایکس رے شعاعیں بھی خارج کرنا شروع کر دیں۔
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ بلیک ہول اپنے ارد گرد موجود گیس کو نگلنے لگا ہے، جس کے نتیجے میں یہ کہکشاں ایک“فعال کہکشانی مرکزActive Galactic Nucleus (AGN) “ میں تبدیل ہو گئی ہے۔
یورپی سدرن آبزرویٹری (ESO) کے سائنس دانوں نے مختلف دوربینوں، بشمول ویری لارج ٹیلی سکوپ (VLT)، کی مدد سے اس کہکشاں کا مشاہدہ کیا۔
اس تحقیق کی مرکزی کردار، ماہر فلکیات پاؤلا سانچیز سیازکا کہنا ہے کہ
”سوچیں کہ آپ ایک کہکشاں کو برسوں سے دیکھ رہے ہوں اور وہ ہمیشہ خاموش ہو، پھر اچانک اس کا مرکز تیز چمکنے لگے۔ یہ منظر معمول کی کسی روشنی کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا۔“
ماہر فلکیات کلاڈیو ریچی نے کہا کہ یہ ”فلکیاتی دیو“ عموماً چھپے رہتے ہیں، اور ان کا ایکٹو ہونا بہت نایاب ہے۔ اگرچہ بعض سائنس دان اس واقعہ کو ”Tidal Disruption Event“ یعنی کسی ستارے کا بلیک ہول کے ہاتھوں چیر پھاڑ، سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کی مسلسل چمک کئی سالوں سے باقی ہے، جو اس مفروضے کو چیلنج کرتی ہے۔
یہ دریافت نہ صرف بلیک ہولز کے بڑھنے کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ کہکشاؤں کی ارتقاء اور نئی ستاروں کی پیدائش پر بھی روشنی ڈال سکتی ہے۔
ماہرین مستقبل میں ای ایس اوESO کی اگلی جنریشن کی ٹیلی سکوپس، جیسے ”ایکسٹریم لیارج ٹیلی سکوپ“ (ELT)، سے مزید ڈیٹا اکٹھا کرنے کی امید رکھتے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ واقعہ کسی نئے قسم کے بلیک ہول ایکٹیویشن کا اشارہ ہے یا کوئی سست روی سے ہونے والا مدو جزر (Tidal) کا واقعہ ہے۔
پاؤلا سانچیز نے مزید کہا:
“یہ کہکشاں ہمارے لیے ایک قیمتی موقع ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ بلیک ہولز کس طرح بڑھتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل کی جدید ٹیلی سکوپس اس راز کو مزید قریب سے سمجھنے میں مدد دیں گی۔
یہ واقعہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بلیک ہول کیسے بڑے ہوتے ہیں اور کہکشائیں کیسے بدلتی ہیں۔ اب سائنس دان بڑی دوربینوں سے مزید مشاہدہ کریں گے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ آخر ہے کیا؟
خیبر پختونخوا : موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یہ واقعہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ