نیویارک(اوصاف نیوز)عظیم الجثہ بلیک ہول 20 سال بعد متحرک ہوگیا، ماہرین فلکیات میں ہلچل مچ گئی،سائنسدانوں نے ایک ایسا شاندار فلکیاتی واقعہ ریکارڈ کیا جو پہلے کبھی براہِ راست نہیں دیکھا گیا۔ ایک خاموش بلیک ہول اچانک متحرک ہو گیا۔

یہ واقعہ کہکشاں SDSS1335+0728 میں پیش آیا، جو زمین سے تقریباً 300 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے یہ کہکشاں پرسکون اور غیر متحرک نظر آتی تھی، لیکن 2019 کے آخر میں اس کی چمک میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہ کہکشاں جس کا مرکز ایک عظیم بلیک ہول ہے (جس کا وزن سورج کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ ہے)، اچانک الٹرا وائلٹ، آپٹیکل، اور انفراریڈ روشنی خارج کرنے لگی اور 2024 کے اوائل میں اس نے ایکس رے شعاعیں بھی خارج کرنا شروع کر دیں۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ بلیک ہول اپنے ارد گرد موجود گیس کو نگلنے لگا ہے، جس کے نتیجے میں یہ کہکشاں ایک“فعال کہکشانی مرکزActive Galactic Nucleus (AGN) “ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

یورپی سدرن آبزرویٹری (ESO) کے سائنس دانوں نے مختلف دوربینوں، بشمول ویری لارج ٹیلی سکوپ (VLT)، کی مدد سے اس کہکشاں کا مشاہدہ کیا۔

اس تحقیق کی مرکزی کردار، ماہر فلکیات پاؤلا سانچیز سیازکا کہنا ہے کہ

”سوچیں کہ آپ ایک کہکشاں کو برسوں سے دیکھ رہے ہوں اور وہ ہمیشہ خاموش ہو، پھر اچانک اس کا مرکز تیز چمکنے لگے۔ یہ منظر معمول کی کسی روشنی کے مقابلے میں بالکل مختلف تھا۔“

ماہر فلکیات کلاڈیو ریچی نے کہا کہ یہ ”فلکیاتی دیو“ عموماً چھپے رہتے ہیں، اور ان کا ایکٹو ہونا بہت نایاب ہے۔ اگرچہ بعض سائنس دان اس واقعہ کو ”Tidal Disruption Event“ یعنی کسی ستارے کا بلیک ہول کے ہاتھوں چیر پھاڑ، سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کی مسلسل چمک کئی سالوں سے باقی ہے، جو اس مفروضے کو چیلنج کرتی ہے۔

یہ دریافت نہ صرف بلیک ہولز کے بڑھنے کے عمل کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ کہکشاؤں کی ارتقاء اور نئی ستاروں کی پیدائش پر بھی روشنی ڈال سکتی ہے۔

ماہرین مستقبل میں ای ایس اوESO کی اگلی جنریشن کی ٹیلی سکوپس، جیسے ”ایکسٹریم لیارج ٹیلی سکوپ“ (ELT)، سے مزید ڈیٹا اکٹھا کرنے کی امید رکھتے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ واقعہ کسی نئے قسم کے بلیک ہول ایکٹیویشن کا اشارہ ہے یا کوئی سست روی سے ہونے والا مدو جزر (Tidal) کا واقعہ ہے۔

پاؤلا سانچیز نے مزید کہا:

“یہ کہکشاں ہمارے لیے ایک قیمتی موقع ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ بلیک ہولز کس طرح بڑھتے ہیں اور تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل کی جدید ٹیلی سکوپس اس راز کو مزید قریب سے سمجھنے میں مدد دیں گی۔

یہ واقعہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بلیک ہول کیسے بڑے ہوتے ہیں اور کہکشائیں کیسے بدلتی ہیں۔ اب سائنس دان بڑی دوربینوں سے مزید مشاہدہ کریں گے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ آخر ہے کیا؟

خیبر پختونخوا : موسلادھار بارشوں نے تباہی مچا دی، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: یہ واقعہ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار