’’صحت مند خواتین، صحت مند معاشرہ‘‘ وزیراعلیٰ سندھ کا خواتین کی صحت کے عالمی دن پر خصوصی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خواتین کی صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ ’’صحت مند خاتون ہی صحت مند معاشرے کی تشکیل کر سکتی ہے‘‘۔
انہوں نے اس موقع پر صوبے بھر میں خواتین کی صحت کے لیے کیے جا رہے اقدامات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت سندھ نے خواتین کی صحت کے تحفظ اور بہتری کے لیے متعدد پروگرامز شروع کیے ہیں، جن میں سب سے اہم صوبے بھر میں چلایا جا رہا ’’زچہ و بچہ کی صحت کا پروگرام‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے خواتین کو بنیادی صحت کی سہولیات گھر تک پہنچانے کے لیے 23,185 لیڈی ہیلتھ ورکرز تعینات کی ہیں جو دن رات خدمات انجام دے رہی ہیں‘‘۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ عالمی بینک کی معاونت سے ’’نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام سندھ‘‘ پورے صوبے میں کامیابی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس پروگرام کا بنیادی مقصد ماں، بچے اور حاملہ خواتین کی بہتر دیکھ بھال کرنا ہے تاکہ ماؤں اور بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ ’’حکومت سندھ کے یہ اقدامات خواتین کی صحت، تحفظ اور ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہورہے ہیں‘‘۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبائی حکومت خواتین کی صحت اور بہبود کے لیے مزید اقدامات کرے گی، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ’’آج کا دن ہمیں خواتین کے صحت کے مسائل حل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ترغیب دیتا ہے‘‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خواتین کی صحت کے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔