نور ولی جیسے لوگ مجاہد نہیں، دورِ جدید کے خوارج اور فتنہ پرور ہیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
نور ولی جیسے لوگ جہاد کی آڑ میں امت میں انتشار اور خونریزی پھیلا رہے ہیں، یہ لوگ مجاہد نہیں، دورِ جدید کے خوارج اور فتنہ پرور ہیں۔ قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا فکری خیانت ہے، نور ولی کا کلام آیاتِ قرآنی کی تحریفِ معنوی کا نمونہ ہے، ایسی گمراہ کن تاویلات دین کی خدمت نہیں بلکہ اس کی توہین ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام کا تصورِ جہاد عدل، امن اور مظلوم کی نصرت پر قائم ہے، نہ کہ قتل و غارت اور ریاستی اداروں پر حملے، نور ولی کا خود ساختہ " جہاد " قرآن کی اس تعلیم کے منافی ہے، " وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ " (البقرہ: 190)۔ یہ فساد ہے، نہ کہ جہاد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، فتنے کے وقت بیٹھا شخص کھڑے سے بہتر ہے، نور ولی جیسے لوگ جہاد کی آڑ میں امت میں انتشار اور خونریزی پھیلا رہے ہیں، یہ لوگ مجاہد نہیں، دورِ جدید کے خوارج اور فتنہ پرور ہیں۔ قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا فکری خیانت ہے، نور ولی کا کلام آیاتِ قرآنی کی تحریفِ معنوی کا نمونہ ہے، ایسی گمراہ کن تاویلات دین کی خدمت نہیں بلکہ اس کی توہین ہیں۔
جہاد صرف امامِ وقت یا ریاست کی اجازت سے جائز ہے، گروہی یا ذاتی فیصلے اس کے دائرے سے خارج ہیں، نور ولی کی کارروائیاں فقہی اصولوں، اجماعِ امت اور اسلامی نظم کے منافی ہیں، یہ عمل جہاد نہیں، فتنہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے، نور ولی گروہ بے گناہوں، نمازیوں، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے، ان کی درندگی اسلامی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسلام قیادت میں تقویٰ، علم، عدل اور حکمت کو شرط بناتا ہے، نور ولی کی قیادت اشتعال، فریب اور فکری گمراہی پر مبنی ہے، یہ قیادت نہیں، امت کی تباہی اور نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کا عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، " وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ "ِذ، نور ولی اور اس کے پیروکار فتنہ و فساد کے نمائندے ہیں، نہ کہ دین کے خادم، ان کی حرکات، افکار اور اقدامات اسلام کے نام پر ایک وحشیانہ کھیل ہیں، یہ دہشت گرد ہیں، مجاہد نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مجاہد نہیں نور ولی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔