پون کھیڑا نے پہلگام کے متاثرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی امریکی دباؤ میں آکر آپریشن روک بیٹھی ہے تو یہ نہ صرف ایک کمزور خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے بلکہ ملک کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پھر اس دعویٰ کے بعد کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ نیوکلیئر جنگ کو تجارت کے ذریعے روک دیا، کانگریس کے سینیئر لیڈر پون کھیڑا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے پھر کئی سوالات پوچھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا "میرے خیال میں جس معاہدے پر مجھے سب سے زیادہ فخر ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ گفت و شنید کی اور ہم نے گولیاں چلانے کے بجائے تجارت کے ذریعے ایک ممکنہ نیوکلیئر جنگ کو روکا"۔ پون کھیڑا نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نریندر مودی اب تو خاموشی توڑیں۔

پچھلے 20 دنوں میں 11 بار اور صرف گزشتہ 10 گھنٹوں میں 2 بار امریکی صدر یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے تجارت کے ذریعے "آپریشن سندور" رکوایا۔ پون کھیڑا نے وزیراعظم سے براہ راست سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کے دباؤ میں آ کر پہلگام کی بیواؤں کو انصاف نہیں دلوا سکے، کیا آپ نے تجارت کے خوف سے گھٹنے ٹیک دئے اور آپریشن سندور کا سودا کر بیٹھے، کیا آپ امریکی دباؤ اور ٹرمپ کے دعووں کے خوف سے ان کو کوئی جواب نہیں دے پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جنگ بندی کے بدلے ہم نے کیا شرائط طے کیں۔

دریں اثنا کانگریس کی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی چیئرمین سپریہ شرینیت نے بھی وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ لو بھائی 10ویں مرتبہ بھی بول دیا لیکن مجال ہے کہ مودی کے منہ سے ایک لفظ بھی نکل جائے۔ بھارت کی وزارت خارجہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ سیزفائر دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی باہمی گفتگو کے نتیجے میں ہوا تھا، جس کی ابتداء پاکستان کی جانب سے کی گئی تھی لیکن اب جب ٹرمپ مسلسل اس کا کریڈٹ لے رہے ہیں، اپوزیشن نے حکومت سے جواب طلب کرنا شروع کر دیا ہے۔ پون کھیڑا نے خاص طور پر پہلگام کے متاثرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی امریکی دباؤ میں آ کر آپریشن روک بیٹھی ہے تو یہ نہ صرف ایک کمزور خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے بلکہ ملک کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی دباؤ تجارت کے

پڑھیں:

سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد

لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان