واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31 مئی 2025)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹیرف پر مذاکرات کیلئے پاکستانی حکام آئندہ ہفتے ڈیل کیلئے امریکہ آئیں گے،دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف کے معاملات پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگا، پاکستانی حکام کے ساتھ دوطرفہ ٹیرف پرمذاکرات کئے جائیں گے،امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت اسلام آباد سے اعلیٰ سطح کا وفد آئندہ ہفتے امریکہ روانہ ہوگا تاکہ دو طرفہ تجارتی تعلقات پر مذاکرات کئے جا سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام ٹیرف پرڈیل کرنے امریکہ آرہے ہیں ۔ امریکہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کے قریب ہے مگر ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جاری رہتی تو انہیں دونوں ممالک سے تجارتی معاہدے کی کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ غیر ملکی طالب علموں کو فی الحال امریکا سے نہیں نکال رہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ لڑائی کے باوجود چاہتا ہوں غیر ملکی طلبا یہاں تعلیم حاصل کریں۔امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور امریکا کے درمیان باقاعدہ ٹیرف مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ ان کی امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے گفتگو ہوئی ہے، جس میں تعمیری ماحول میں تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور تکنیکی سطح پر مذاکرات پر اتفاق ہوا۔

پاکستان کو امریکی برآمدات پر اس وقت 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے جبکہ بھارت کو 26 فیصد۔ اس کے باوجود بھارت نے حالیہ مہینوں میں امریکا سے قریبی تجارتی روابط قائم کرنے کی کوشش کی ہے، حتیٰ کہ وزیر تجارت پیوش گوئل نے واشنگٹن کا دورہ بھی کیا۔ توقع ہے کہ جولائی کے اوائل میں امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کو 50 ارب ڈالر تک کے کنٹریکٹس دئیے جا سکتے ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستانی حکام امریکی صدر پر مذاکرات کے درمیان ٹیرف پر کے ساتھ

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی