صدر ٹرمپ نے پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی امریکا آمد سے متعلق کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آئندہ ہفتے امریکا کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور حالیہ امریکی ٹیرف پر بات چیت کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف برقرار، امریکی اپیلز کورٹ نے عارضی طور پر معطلی کا فیصلہ مؤخر کردیا
پاکستان کو امریکی برآمدات پر ممکنہ طور پر 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جو کہ 3 ارب ڈالر کے تجارتی سرپلس کے باعث عائد کیا گیا ہے۔ یہ ٹیرف واشنگٹن کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر گزشتہ ماہ نافذ کیے گئے تھے، تاہم مذاکرات کے لیے انہیں 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان نے اپریل میں فیصلہ کیا تھا کہ ایک اعلیٰ سطحی وفد امریکہ بھیجا جائے گا تاکہ تجارتی تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے اور امریکی ٹیرف سے متعلق خدشات پر بات چیت کی جا سکے۔
یہ وفد سرکاری اور نجی شعبے کے اہم شخصیات پر مشتمل ہوگا، جن میں نمایاں کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان شامل ہوں گے۔
دوبارہ جنگ ہوئی تو کیا ہوگا؟صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو وہ دونوں ممالک کے ساتھ کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ہم غزہ کی تمام تر صورت حال سے نمٹ رہے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے حالیہ دنوں میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان شدید فوجی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال تجارتی مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے۔
صفر ٹیرف پر مبنی دو طرفہ تجارتی معاہدہپاکستان نے امریکا کو تجویز دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان منتخب شعبوں میں صفر ٹیرف پر مبنی دو طرفہ تجارتی معاہدہ کیا جائے تاکہ باہمی مفادات کے تحت تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے درمیان 30 مئی کو ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں فریقین نے تکنیکی سطح پر تفصیلی مذاکرات پر اتفاق کیا۔
امریکی سرمایہ کاروں کے لیے مراعاتتجارت کے وزیر جام کمال نے انٹرنیشنل میڈیا کو بتایا کہ پاکستان امریکی کمپنیوں کو بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مراعات دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں لیز گرانٹس اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان امریکا سے کپاس اور خوردنی تیل کی درآمدات بڑھانے کا بھی خواہاں ہے۔
’بڑے معاہدوں‘ پر کامصدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ، خاص طور پر اس ماہ کے اوائل میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں امریکا کے کردار کے بعد ’بڑے معاہدوں‘ پر کام کر رہے ہیں۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور بھارت کے درمیان بھی تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے، جس میں بھارت امریکی کمپنیوں کو 50 ارب ڈالر سے زائد کے سرکاری ٹھیکوں میں بولی لگانے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے کے درمیان کے لیے جا سکے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔