امریکی خاتون اونیجا رابنسن بھی پاکستانی کھانوں کی دیوانی نکلیں، کیا کھانا پسند ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
پاکستانی نوجوان سے محبت کے خاطر امریکا سے پاکستان آنے والی اونیجا رابنسن بھی یہاں کے کھانوں کی دیوانی نکلیں ہیں۔
سوشل میڈیا پر کئی دنوں تک مقبول رہنے والی امریکی خاتون اونیجا رابنسن ایک حالیہ انٹرویو کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔ اونیجا انٹرویو میں پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور یہاں کی پکوان کی خوب تعریف کی۔
اونیجا کا کہنا تھا کہ پاکستانی کھانے بےحد لذیذ ہوتے ہیں اور چکن بریانی ان کی پسندیدہ ڈش ہے۔ انہوں نے بتایاب کہ انڈہ پراٹھا اور قیمہ بھی ان کے پسندیدہ پاکستانی کھانوں میں شامل ہے۔
امریکی خاتون کے اس انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔