پاکستانی خاتون ڈاکٹر نے میٹریل سائنس میں ملک کا نام روشن کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
پاکستانی خاتون ڈاکٹر ماہرہ عبدالغنی نے کیمبرج یونیورسٹی سے مٹیریل سائنس اور میٹالرجی میں پی ایچ ڈی مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ اس شعبے میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ڈاکٹر ماہرہ نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز پاکستان سے انجینئرنگ کی ڈگری کے ساتھ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے جرمنی اور فرانس میں تعلیم حاصل کی جہاں انہیں یورپی یونین کے مشہور ‘ایراسمس منڈس اسکالرشپ’ سے نوازا گیا۔ان کی پی ایچ ڈی تحقیق کا موضوع 2D میٹیریلز تھا، جو جدید الیکٹرانکس میں درپیش چیلنجز کا حل فراہم کرتا ہے۔ دورانِ تحقیق انہوں نے نانو فابریکیشن جیسے جدید اور پیچیدہ ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی، جو مستقبل کی ڈیوائسز کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ڈاکٹر ماہرہ کی کامیابی نہ صرف پاکستانی خواتین بلکہ STEM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی) جیسے مشکل شعبوں میں کام کرنے والی نوجوان نسل کے لیے بڑی تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔ان کی کامیابی پر قوم کو فخر ہے، اور یہ ان نوجوان لڑکیوں کے لیے مثال ہے جو دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانا چاہتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔