امارات میں میڈیا اداروں کے لیے نئی پابندیاں، نیا ریگولیشن سسٹم نافذ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
دبئی : متحدہ عرب امارات میں پہلی بار میڈیا قوانین میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور نیا میڈیا ریگولیشن سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔
اماراتی میڈیا کونسل کے مطابق نئے قانون کے تحت میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر 20 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر جرمانہ دگنا کیا جائے گا۔
اماراتی میڈیا کونسل نے بتایا کہ میڈیا مواد کے لیے 20 نئے معیار مقرر کیے گئے ہیں اور عوامی نگرانی کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم بھی جلد لانچ کیا جائے گا۔
قانون میں مقامی مواد کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پیکیجز بھی شامل کیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا ادارے قائم کرنے کے لیے سخت شرائط طے کر دی گئی ہیں۔
نئے ریگولیشن سسٹم میں لائسنس کی منسوخی، جرمانے اور دیگر سزائیں شامل کی گئی ہیں تاکہ میڈیا سیکٹر میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔