امام خمینی کی دیومالائی شخصیت کے حوالے سے سیکرٹری انجمن علامہ سید تجمل الحسینی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو کے دوران سابق صدر تحریک حسینی اور موجودہ ڈپٹی سیکرٹری انجمن حسینیہ کا کہنا تھا کہ امام خمینی جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ امام خمینی نے جب لاشرقیہ ولا غربیہ کا نعرہ بلند کیا تو اس وقت دنیا کو یہ ماورائے عقل لگا، مگر آج اس نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے۔ متعلقہ فائیلیںعلامہ سید تجمل الحسینی کا تعلق ضلع کرم کے علاقے ابراہیم زئی سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد، جامعۃ الشہید عارف الحسینی پشاور میں ابتدائی دینی علوم حاصل کئے۔ یہاں سے فراغت کے بعد اعلیٰ دینی علوم کے حصول کیلئے قم (ایران) چلے گئے۔ تحصیل علم کیساتھ موصوف نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ملکر ٹیکسلا میں ایک دینی درسگاہ نیز اسلام آباد میں ایتام کیلئے ایک جدید اکیڈمی کی بنیاد رکھی، جہاں بچوں کو دینی علوم کے علاوہ جدید دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ 11 مارچ 2022ء کو تحریک حسینی کے صدر منتخب ہوئے۔ بہترین کارکردگی کی بنیاد پر دو سالہ مدت پوری کرنے کے بعد سپریم لیڈر علامہ سید عابد الحسینی نے سپریم کونسل کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں ایک سال کی ایکٹینشن دی۔ یوں تین سال تک اسی پلیٹ فارم سے علاقائی سطح پر سیاسی، سماجی، قومی اور مذہبی خدمات سرانجام دینے کے بعد 2 فروری بمطابق 3 شعبان المعظم کو اس عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ جامع مسجد کے پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے 5 مارچ 2025ء کو دیگر 24 افراد سمیت انہیں انجمن حسینیہ کا رکن منتخب کیا اور 10 مارچ کو انہیں ڈپٹی سیکرٹری انجمن حسینیہ منتخب کیا گیا اور اسوقت اسی پلیٹ فارم سے علاقے کی خدمت کر رہے ہیں۔ علامہ صاحب کے ساتھ ہماری ٹیم نے 36ویں برسی کی مناسبت سے امام خمینی کی شخصیت کے حوالے سے، کرم میں ریلوے ٹریک کے ممکنہ منصوبے، نیز اعلیٰ پاکستانی وفد کے دورہ ایران کی اہمیت کے حوالے سے انکے ساتھ خصوصی نشست رکھی ہے۔ جو پیش خدمت ہے۔قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔