حکومت بجلی شعبے کے گردشی قرضے ختم کرنے کے معاہدے کے قریب ہے : اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لئے کمرشل بینکوں کے ساتھ ایک بڑے مالیاتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بجلی کے نرخوں کو کم کرنے، نظام کی کارکردگی کو بڑھانے اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے مقصد سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ایک وسیع سیٹ کی نقاب کشائی کرتے ہوئے وزیر نے صحافیوں کو بتایا کہ قرضوں کی ادائیگی کا منصوبہ ”تقریباً اختتام پر ہے؛ یہ ہونے والا ہے اور کسی بھی دن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور بجلی کی قیمتوں میں پہلے ہی کمی دیکھ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم کو قومی گرڈ میں شامل کرنا ایک بڑا قدم ہوگا، جو ٹرانسمیشن سسٹم میں جاری اصلاحات کے ساتھ ساتھ ہے۔
پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرےگا، وزیراعظم کا بھارت کو پیغام
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔