Daily Ausaf:
2026-07-24@12:33:24 GMT

مولانا مسعود ازہر ‘حافظ سعید اور بلاول زرداری

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

’’اگر بھارت تعاون کرے تو مخصوص افراد (مولانا مسعود ازہر اور حافظ سعید)کی حوالگی پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘‘ الجزیرہ کو دیا گیا یہ بیان کسی ایئرے ،غیرے، نتھو خیرے کا نہیں بلکہ اس سیاستدان کا ہے کہ جس کی ماں اور نانا ، پاکستان کے وزیراعظم رہے اور والد آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں، یعنی مسٹر بلاول زرداری ، بلاول زرداری کے اس بیان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خاصی بحث جاری ہے اور مختلف تجزیہ کار اس بیان کو متنازعہ ، سفارتی بدحواسی ، بلکہ آئین پاکستان، ریاستی خودمختاری، قومی عزت اور پاکستان کی مستقل پالیسی کی کھلی توہین قرار دے رہے ہیں، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پوری پاکستانی قوم میں غم و غصہ اور بے چینی پیدا کرنے والا یہ بیان بلاول زرداری کی ذہنی اختراع ہے،یا پھر اسکے پیچھے کسی مخصوص طاقتور لابی کا ذہن کار فرما ہے ؟مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید سڑک چھاپ سیاست دان یا بڑھک مار شخصیات تو ہیں نہیں،کہ بلاول زرداری جنہیں انڈیا کے حوالے کرنے کی بات کر رہے ہیں ،بلکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا ازہر سے صرف پاکستانی قوم ہی نہیں بلکہ انڈیا کے لاکھوں مظلوم انسان بھی محبت کرتے ہیں ،یاد رہے کہ اس خاکسار نے صرف ’’مسلمان‘‘نہیں بلکہ ’’انسان‘‘لکھا ہے،اور حافظ سعید کی بھی یہی کیفیت ہے،یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی آئین کا آرٹیکل 9 ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ کسی بھی پاکستانی شہری کو کسی غیر ملکی حکومت کے کہنے پر حوالگی کی بات کرنا آئین کی صریحا ًخلاف ورزی ہے۔ پاکستانی قانون کے تحت کسی شہری کو کسی دشمن ریاست کے حوالے کرنا نہ صرف قانونی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ قومی سلامتی کے مفادات سے کھلا انحراف بھی ہے۔ہم جس بھارت کی بات کر رہے ہیں، وہ کوئی عام ہمسایہ ملک نہیں ، بلکہ وہ ایک ریاستی دہشت گرد ہے، جس نے کلبھوشن یادیو جیسے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیجا۔ جس کے ایجنٹ پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں مصروف رہتے ہیں،جو آج بھی بلوچستان، کراچی، فاٹا اور دیگر علاقوں میں بدامنی کے نیٹ ورک چلارہا ہے، جو کشمیر میں نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کا مرتکب ہے۔جس بھارت کی ظالم فوج ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکی ہے، جس بھارت کی ظالم فوج ہزاروں کشمیری خواتین کو بے آبرو کر چکی ہے ، جس بھارت میں گائے کو ذبح کرنے کے نام پر مسلمانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے، جس بھارت میں صرف ایک بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بابری مسجد جیسی درجنوں تاریخی مساجد پر نریندر مودی حکومت کی سرپرستی میں شدت پسند ہندو قبضہ کر چکے ہیں اور ابھی ان کا مزید یہ اعلان ہے کہ وہ ہر تاریخی مسجد پر قبضہ کر کے اسے مندر میں تبدیل کریں گے،جس بھارت نے ابھی حالیہ مہینوں میں پاکستانی سرحدات کو روندتے ہوئے بہاولپور ‘مظفرآباد ‘مرید کے تک مساجد کو نشانہ بنایا اور معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کیا،جس بھارت کا وزیر اعظم نریندر مودی بذات خود خطے کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے جس کے لئے بھارت کے اندر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جانوں سے کھیلنا اور املاک پر قبضہ کرنا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے اس بھارت کو مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید کی حوالگی کی بات کرنا نرم سے نرم لفظوں میں بھی پاکستان کے آئین اور ریاست پاکستان کی غیرت سے بغاوت ہی کہلائے گا،بھارت جیسے دہشت گرد ملک کے گرفتار پائلٹ ’’ابھی نندن‘‘کو ’’کڑک چائے‘‘پلا کر پروٹوکول کے ساتھ رخصت کرنا اور اسی دشمن ریاست کی جھوٹی خوشنودی کے لئے اپنے شہریوں کی حوالگی کی پیشکش کرنا صرف سفارتی جہالت ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی موقف، سفارتی بیانیے اور آئینی حلف سے بھی انحراف کے مترادف ہے۔بلاول زرداری آپ ہی اپنی ادائوں پہ غور کریں ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی‘ کیا بلاول بھٹو کو معلوم نہیں کہ پاکستان کی حوالگی کی پالیسی واضح ہے، پاکستان صرف ایکسٹراڈیشن ٹریٹی (Extradition Treaty) کے تحت اور وہ بھی صرف غیر متنازع معاملات میں حوالگی کر سکتا ہے، وہ بھی دوست ممالک کو، دشمن ریاست کو نہیں!پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ کوئی حوالگی معاہدہ موجود ہے، نہ سفارتی اعتماد، نہ قانونی بنیاد۔ ایسی صورت میں یہ پیشکش کرنا سفارتی خودکشی ہے۔یہ وہی طرزِ عمل ہے جو 9/11 کے بعد رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور میں ڈالروں کے عوض اپنے شہریوں کو بیچنے والوں نے اپنایا تھا۔
آج شائد وہی سوداگری ایک نئی شکل میں بھارت کی خوشنودی کے لئے کی جا رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا بلاول زرداری اپنے اس متنازعہ بیان سے رجوع کریں گے ؟ پاکستان ایک غیرت مند ریاست ہے‘ اس غیرت مند ریاست کے 25کروڑ غیرت مند باسی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے حکمران نریندر مودی حکومت کے دم چھلے بن کر پاکستان کے عظیم بیٹوں کو بھارت کے حوالے کر دیں، رسوا کن ڈکٹیٹر اپنے سیاہ ترین کارناموں سمیت قبر کی پاتال میں گم ہو گیا، اس لئے اس کی بدنام زمانہ اور کفریہ طاقتوں کی خوشامدانہ پالیسیوں کو دفن کر دینا چاہیے۔اس معاملے پر پارلیمنٹ، دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کمیٹی کو بلاول زرداری کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کی وضاحت کرنی چاہیے۔
مولانا مسعود ازہر نےجموں ،کورٹ بلوال اور تہاڑ جیل قومی خزانہ لوٹنے یا منی لانڈرنگ کیس کی وجہ سے نہیں کاٹی ، نہ ہی ان پر پر سکھ حریت پسندوں کی لسٹیں دہلی حکومت کے حوالے کرنے کا کبھی کوئی الزام لگا، مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید کے خاندانوں کے 80سالہ تاریخی ریکارڈ کو کھنگال لیں، ان کے کسی رشتے دار پر ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے، اسلحہ اٹھانے یا پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا کوئی الزام بھی نہیں ہے،ہاں انہوں نے ایک کروڑ کے لگ بھگ مظلوم و مجبور اور مقہور کشمیری مسلمانوں کی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے خواب اپنی انکھوں میں ضرور سجا رکھیں ہیں، پاکستان کے یہ دونوں عظیم بیٹے سچے محب وطن ہیں، انہیں ہندوستان کے حوالے کرنے کی باتیں کرنے والے اگر ملکی سلامتی کو دا ئو پہ لگانے کی کوشش کریں گے تو یہ قوم اسکی انہیں کبھی اجازت نہیں دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مسعود ازہر اور حافظ بلاول زرداری کے حوالے کر پاکستان کے حوالگی کی نہیں بلکہ کی حوالگی کی بات کر ہیں بلکہ بھارت کی جس بھارت کریں گے

پڑھیں:

فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوم انصاف ،اقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن کہتا ہے ،بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔ (النحل: 90)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اور اصولی موقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کے طورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرنا چاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔
سوم احترامِ خودمختاری :تیسرا اصول انسانیت کو مقدم رکھناہے۔اقبال کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں ’’مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا ‘‘۔ خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبالؒ نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اور امریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی، معاشی یا تزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقرار رکھنا ہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنے اس کردارکو بڑھانے کے لئے کئی عملی راستے موجود ہیں:
پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران- امریکا تنازع کے مستقل حل کے لئے دوبارہ ٹھوس تجاویزپیش کرے۔
دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تو معاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتمادصرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہونا چاہیے ۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کے لئے غیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس،اورعلمی کانفرنسزکا انعقاد کرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے ، اور بین الاقوامی کانفرنسزکے انعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک ’’مکالماتی کلچر‘‘کو فروغ دے ،ایسا کلچرجس میں اختلاف کو برداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے اور دلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔ سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لئے امن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔ مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑاجاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جو مذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔ اقبال ؒکی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے جو انسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،
اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتا ہے۔ لہٰذاپاکستان کے پالیسی سازوں، سفارتکاروں، اور دانشوروں کواقبال کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔امن کے قیام کے لئے صرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفردمقام رکھتا ہے۔ اس کی تہذیب،اس کی زبان ،اس کاادبی ورثہ سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ان کے اشعاردلوں کونرم کرتے ہیں،ذہنوں کوروشن کرتے ہیں اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ’’ہارڈ پاور‘‘یعنی فوجی طاقت کی بجائے ’’سافٹ پاور‘‘یعنی سفارت،ثقافت،اور نظریہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔ اگر پاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتاہے بلکہ ایک امن کے سفیر کے طورپرابھرسکتاہے۔
امریکااورایران کے درمیان مصالحت کے لئے پاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبال کے تصورِانسانیت کی وحدت کے عین مطابق ہیں۔
دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبال کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔آج کی دنیا میں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔
اقبال ؒکی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے ۔ اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں ،اپنے اداروں، اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگر پاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالی پاکستان کوامن،عدل اور خیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبال ؒکے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے ، اور اسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔
اقبال اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026 کوسیمینارسے خطاب

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات