Daily Ausaf:
2026-06-03@07:24:00 GMT

مولانا مسعود ازہر ‘حافظ سعید اور بلاول زرداری

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

’’اگر بھارت تعاون کرے تو مخصوص افراد (مولانا مسعود ازہر اور حافظ سعید)کی حوالگی پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا‘‘ الجزیرہ کو دیا گیا یہ بیان کسی ایئرے ،غیرے، نتھو خیرے کا نہیں بلکہ اس سیاستدان کا ہے کہ جس کی ماں اور نانا ، پاکستان کے وزیراعظم رہے اور والد آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہیں، یعنی مسٹر بلاول زرداری ، بلاول زرداری کے اس بیان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خاصی بحث جاری ہے اور مختلف تجزیہ کار اس بیان کو متنازعہ ، سفارتی بدحواسی ، بلکہ آئین پاکستان، ریاستی خودمختاری، قومی عزت اور پاکستان کی مستقل پالیسی کی کھلی توہین قرار دے رہے ہیں، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پوری پاکستانی قوم میں غم و غصہ اور بے چینی پیدا کرنے والا یہ بیان بلاول زرداری کی ذہنی اختراع ہے،یا پھر اسکے پیچھے کسی مخصوص طاقتور لابی کا ذہن کار فرما ہے ؟مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید سڑک چھاپ سیاست دان یا بڑھک مار شخصیات تو ہیں نہیں،کہ بلاول زرداری جنہیں انڈیا کے حوالے کرنے کی بات کر رہے ہیں ،بلکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا ازہر سے صرف پاکستانی قوم ہی نہیں بلکہ انڈیا کے لاکھوں مظلوم انسان بھی محبت کرتے ہیں ،یاد رہے کہ اس خاکسار نے صرف ’’مسلمان‘‘نہیں بلکہ ’’انسان‘‘لکھا ہے،اور حافظ سعید کی بھی یہی کیفیت ہے،یہ بات واضح ہے کہ پاکستانی آئین کا آرٹیکل 9 ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ کسی بھی پاکستانی شہری کو کسی غیر ملکی حکومت کے کہنے پر حوالگی کی بات کرنا آئین کی صریحا ًخلاف ورزی ہے۔ پاکستانی قانون کے تحت کسی شہری کو کسی دشمن ریاست کے حوالے کرنا نہ صرف قانونی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ قومی سلامتی کے مفادات سے کھلا انحراف بھی ہے۔ہم جس بھارت کی بات کر رہے ہیں، وہ کوئی عام ہمسایہ ملک نہیں ، بلکہ وہ ایک ریاستی دہشت گرد ہے، جس نے کلبھوشن یادیو جیسے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیجا۔ جس کے ایجنٹ پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں مصروف رہتے ہیں،جو آج بھی بلوچستان، کراچی، فاٹا اور دیگر علاقوں میں بدامنی کے نیٹ ورک چلارہا ہے، جو کشمیر میں نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کا مرتکب ہے۔جس بھارت کی ظالم فوج ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکی ہے، جس بھارت کی ظالم فوج ہزاروں کشمیری خواتین کو بے آبرو کر چکی ہے ، جس بھارت میں گائے کو ذبح کرنے کے نام پر مسلمانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے، جس بھارت میں صرف ایک بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بابری مسجد جیسی درجنوں تاریخی مساجد پر نریندر مودی حکومت کی سرپرستی میں شدت پسند ہندو قبضہ کر چکے ہیں اور ابھی ان کا مزید یہ اعلان ہے کہ وہ ہر تاریخی مسجد پر قبضہ کر کے اسے مندر میں تبدیل کریں گے،جس بھارت نے ابھی حالیہ مہینوں میں پاکستانی سرحدات کو روندتے ہوئے بہاولپور ‘مظفرآباد ‘مرید کے تک مساجد کو نشانہ بنایا اور معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کیا،جس بھارت کا وزیر اعظم نریندر مودی بذات خود خطے کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے جس کے لئے بھارت کے اندر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جانوں سے کھیلنا اور املاک پر قبضہ کرنا حکومتی پالیسی کا حصہ ہے اس بھارت کو مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید کی حوالگی کی بات کرنا نرم سے نرم لفظوں میں بھی پاکستان کے آئین اور ریاست پاکستان کی غیرت سے بغاوت ہی کہلائے گا،بھارت جیسے دہشت گرد ملک کے گرفتار پائلٹ ’’ابھی نندن‘‘کو ’’کڑک چائے‘‘پلا کر پروٹوکول کے ساتھ رخصت کرنا اور اسی دشمن ریاست کی جھوٹی خوشنودی کے لئے اپنے شہریوں کی حوالگی کی پیشکش کرنا صرف سفارتی جہالت ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عالمی موقف، سفارتی بیانیے اور آئینی حلف سے بھی انحراف کے مترادف ہے۔بلاول زرداری آپ ہی اپنی ادائوں پہ غور کریں ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی‘ کیا بلاول بھٹو کو معلوم نہیں کہ پاکستان کی حوالگی کی پالیسی واضح ہے، پاکستان صرف ایکسٹراڈیشن ٹریٹی (Extradition Treaty) کے تحت اور وہ بھی صرف غیر متنازع معاملات میں حوالگی کر سکتا ہے، وہ بھی دوست ممالک کو، دشمن ریاست کو نہیں!پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ کوئی حوالگی معاہدہ موجود ہے، نہ سفارتی اعتماد، نہ قانونی بنیاد۔ ایسی صورت میں یہ پیشکش کرنا سفارتی خودکشی ہے۔یہ وہی طرزِ عمل ہے جو 9/11 کے بعد رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور میں ڈالروں کے عوض اپنے شہریوں کو بیچنے والوں نے اپنایا تھا۔
آج شائد وہی سوداگری ایک نئی شکل میں بھارت کی خوشنودی کے لئے کی جا رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا بلاول زرداری اپنے اس متنازعہ بیان سے رجوع کریں گے ؟ پاکستان ایک غیرت مند ریاست ہے‘ اس غیرت مند ریاست کے 25کروڑ غیرت مند باسی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے حکمران نریندر مودی حکومت کے دم چھلے بن کر پاکستان کے عظیم بیٹوں کو بھارت کے حوالے کر دیں، رسوا کن ڈکٹیٹر اپنے سیاہ ترین کارناموں سمیت قبر کی پاتال میں گم ہو گیا، اس لئے اس کی بدنام زمانہ اور کفریہ طاقتوں کی خوشامدانہ پالیسیوں کو دفن کر دینا چاہیے۔اس معاملے پر پارلیمنٹ، دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کمیٹی کو بلاول زرداری کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کی وضاحت کرنی چاہیے۔
مولانا مسعود ازہر نےجموں ،کورٹ بلوال اور تہاڑ جیل قومی خزانہ لوٹنے یا منی لانڈرنگ کیس کی وجہ سے نہیں کاٹی ، نہ ہی ان پر پر سکھ حریت پسندوں کی لسٹیں دہلی حکومت کے حوالے کرنے کا کبھی کوئی الزام لگا، مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید کے خاندانوں کے 80سالہ تاریخی ریکارڈ کو کھنگال لیں، ان کے کسی رشتے دار پر ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے، اسلحہ اٹھانے یا پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا کوئی الزام بھی نہیں ہے،ہاں انہوں نے ایک کروڑ کے لگ بھگ مظلوم و مجبور اور مقہور کشمیری مسلمانوں کی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے خواب اپنی انکھوں میں ضرور سجا رکھیں ہیں، پاکستان کے یہ دونوں عظیم بیٹے سچے محب وطن ہیں، انہیں ہندوستان کے حوالے کرنے کی باتیں کرنے والے اگر ملکی سلامتی کو دا ئو پہ لگانے کی کوشش کریں گے تو یہ قوم اسکی انہیں کبھی اجازت نہیں دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مسعود ازہر اور حافظ بلاول زرداری کے حوالے کر پاکستان کے حوالگی کی نہیں بلکہ کی حوالگی کی بات کر ہیں بلکہ بھارت کی جس بھارت کریں گے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو