بجلی کی بچت کے لیے نئی عمارت کی تعمیر، بنائے گئے قانون پر عملدرآمد کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
ملک بھر میں بجلی کے مہنگے داموں کے باعث عوام کی بڑی تعداد مختلف حربوں سے بجلی بلوں میں کمی کے لیے کوشاں ہے، کسی نے سولر پینلز سسٹم لگا لیے، کسی نے کولر اور دیگر کولنگ سسٹم لگوا لیے۔
یہ بھی پڑھیں:گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ اگلے 5 برسوں میں بھی جاری رہنے کا امکان
نئے گھروں میں موسم گرما میں گرمی انتہائی زیادہ ہو جاتی ہے، جس وجہ سے بجلی کا استعمال مزید بڑھ جاتا ہے، حکومت نے عمارت کی تعمیر کے وقت بلڈنگ کوڈ متعارف کروائے ہیں کہ جس سے گھروں کو اس طرز سے تعمیر کیا جائے گا کہ گرمیوں میں گرمی زیادہ نہ ہو۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور وزیر سائنس وٹیکنالوجی کو بلڈنگ کوڈ پر عملدرآمد کے لیے خطوط لکھے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ روایتی عمارتیں توانائی بحران کا سبب بن رہی ہیں، اس وقت 60 فیصد بجلی مختلف عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے اور پرانی عمارتوں کے ڈیزائن کے باعث یہ عمارتیں جلدی گرم ہو جاتی ہیں اور عمارت کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے طرز طرز کے کولنگ سسٹم لگائے جاتے ہیں، جس وجہ سے بجلی کا استعمال بھی زیادہ اور بعض اوقات ضیاع بھی ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے اپنے خط میں لکھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ ای سی بی سی 2023 ایک نیا قانون بنایا گیا ہے کہ جس سے نئی عمارتوں کو بہتر ڈیزائن سے بنایا جائے گا، تاکہ بجلی کی بچت ہو سکے۔
نئی عمارتوں میں بجلی بچانے کا نظام لانا ضروری ہے اس وجہ سے ای سی بی سی 2023 کو آئندہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔
اویس لغاری نے اپنے خط میں صوبوں کو یہ بھی کہا کہ نئے تعمیراتی منصوبوں کی منظوری کو بجلی بچت پلاننگ اور ایک سی بی سی 2023 قانون سے مشروط ہونا چاہیے۔
تمام صوبے کو چاہیے کہ وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں میں ای سی بی سی 2023 کو شامل کریں اور ہر نئی عمارت کی تعمیر سے قبل بجلی بچت کو لازمی دیکھا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اویس لغاری خط گرمی گھروں کی تعمیر وزیرتوانائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اویس لغاری گھروں کی تعمیر وزیرتوانائی کی تعمیر کے لیے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :