کے الیکٹرک نے سندھ حکومت کے واجبات کی ادائیگی شروع کر دی، سوا اب روپے جمع کرا دیئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جولائی2025ء) سالوں بعد کراچی الیکٹرک(کے الیکٹرک)نے سندھ حکومت کے واجبات کی ادائیگی شروع کر دی ہے اور سوا اب روپے جمع کرا دیئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک نے کئی سال بعد سندھ حکومت کے واجبات کی ادائیگی شروع کر دی ہے اور دو قسطوں میں سوا ارب روپے سے زائد کی رقم جمع کرائی ہے۔فریقین کے درمیان 32 ارب روپے سے زائد کے واجبات میں سے کے الیکٹرک نے 9.
(جاری ہے)
شیڈول کے مطابق ستمبر 2025 تک سندھ حکومت کو 4.258 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی جب کہ کے الیکٹرک ہر ماہ جمع شدہ الیکٹرسٹی ڈیوٹی ادا کرنے کا بھی پابند ہوگا۔معاہدے کے مطابق بجلی بلوں میں صارفین سے وصول کی گئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی اب اقساط میں سندھ حکومت کو ادا کی جائے گی۔ اس وقت الیکٹرسٹی ڈیوٹی کی مد میں کے الیکٹرک پر 32 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔ الیکٹرسٹی ڈیوٹی کی عدم ادائیگی کا معاملہ پی اے سی میں زیر غور آیا تھا۔دریں اثنا کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے درمیان 25 ارب روپے کے واجبات کا معاملہ تاحال حل طلب ہے اور کے الیکٹرک نے سرکاری محکموں کو بر وقت بل کی ادائیگی نہ کرنے پر بجلی کے کنکشن منقطع کرنے کی تنبیہہ جاری کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے الیکٹرسٹی ڈیوٹی کے الیکٹرک نے سندھ حکومت کی ادائیگی کے واجبات ارب روپے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔