سٹاک ایکس چینج میں تاریخ رقم، 100 انڈیکس 1 لاکھ 22 ہزار 281 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج مسلسل دوسرے دن کاروبار بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ عیدالاضحیٰ کے سلسلے میں جمعہ کے روز عام تعطیل کے باعث آج جمعرات کو کاروباری ہفتے کے آخری دن بازارِ حصص میں 100 انڈیکس بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 482 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 22 ہزار 281 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ بعد ازاں مارکیٹ میں تیزی کا رجحان جاری رہا اور انڈیکس ایک لاکھ 21 ہزار 953 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو بھی چھو گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی کاروبار کے دوران انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلند ترین سطح پر پہنچ گیا پوائنٹس کی
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔