دُنیائے فٹبال کے نامور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو نے اس ماہ ہونے والے کلب ورلڈ کپ میں شرکت کی تردید کردی۔

پرُتگال سے کھیلنے والے 40 سالہ کرسٹیانو رونالڈو کا اس ماہ سعودی عرب کے کلب النصر سے معاہدہ ختم ہوجائے گا۔النصر کلب ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے ۔

رونالڈو کی شمولیت سے النصر کلب کوئی بھی ٹائٹل جیتنے میں ناکام رہا اور مایوس کن طور پر نہ تو فیفا کلب ورلڈ کپ اور نہ ہی ایشین چیمپئنز لیگ میں جگہ بنا سکا۔
فیفا کے صدر نے عندیہ دیا تھا کہ اگر النصرکلب ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا تو رونالڈو کلب ورلڈ کپ میں کسی ایسی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں جو اس ایونٹ میں شرکت کر رہی ہو۔

تاہم اب رونالڈو نے کلب ورلڈ کپ میں شرکت کی تردید کردی ہے ۔

رونالڈو کا کہنا ہے کہ وہ کلب ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے رہے ، اُن کو کئی کلب کی جانب سے کھیلنے کی پیشکش ہوئی ہے ، کچھ کی آفرز اچھی بھی تھیں لیکن آپ ہر چیز نہیں کرسکتے۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر رونالڈو نے ایک پوسٹ بھی شیئر کی جس میں لکھا ، دی چیپٹر از اوور۔ یہ پوسٹ اُنہوں نے مئی میں النصر کی جانب سےسیزن کا آخری میچ کھیلنے کے بعد کی۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کلب کے مطابق وہ رونالڈ و کے ساتھ معاہدے کو توسیع دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

رونالڈ و نے النصر کی جانب سے 111 میچوں میں شرکت کی اور 99 گول اسکور کیے۔

واضح رہے کہ فیفا کلب ورلڈ کپ رواں ماہ امریکا میں شیڈول ہے جس میں 32 ٹیمیں حصہ لیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کلب ورلڈ کپ میں رونالڈو نے میں شرکت

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت