پاکستان کا قرضہ 6.7 فیصد بڑھ کر 760 کھرب روپے سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مالی سال 2025 کے پہلے9 ماہ کے دوران پاکستان کے عوامی قرضے میں 6.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 760 کھرب روپے سے تجاوز کرگیا۔
اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق اس میں 515.18 کھرب روپے کا ملکی قرضہ اور 244.89کھرب روپے کا بیرونی قرضہ شامل ہے۔
مارک اپ کے اخراجات نے مکمل سال کے بجٹ تخمینے کا 66 فیصد (6,439 ارب روپے) استعمال کیا جس کا زیادہ تر حصہ(5,783 ارب روپے) ملکی قرض پر تھا۔
حکومت نے جولائی تا مارچ کی مدت میں قرض کی سروسنگ پر 64.
پاکستان چین سے جے 35 طیاروں کے علاوہ کیا کیا خریدنا چاہتا ہے؟ بلومبرگ کی رپورٹ میں بڑا انکشاف
حکومت نے قرض کی پختگی کو طول دینے اور قلیل مدتی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی آلات جیسے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) اور سکوک پر انحصار کیا۔
اس حکمت عملی کے تحت 2.4 کھرب روپے کے ٹریژری بلز (T-bills) کو ریٹائر کیا گیا جب کہ 2 سالہ زیرو کوپن PIB اور 10 سالہ سکوک بھی متعارف کرایا گیا۔
بیرونی قرضہ مارچ 2025 کے اختتام پر 87.4 بلین امریکی ڈالر رہا جو جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تقریباً 883 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے بیرونی قرضے کا زیادہ تر حصہ طویل مدتی اور رعایتی قرضوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں چپس، کولڈڈرنکس اور آئس کریم سمیت کئی اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کھرب روپے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی اضافہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 جولائی کیلیے اضافہ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔