ایران : داعش سے تعلق پر 9افراد کو پھانسی دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے 9افراد کو پھانسی دے دی ہے جن پر 2018 ء میں داعش کی جانب سے ملک کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق داعش کے 9ارکان کی سزائے موت ایرانی عدالتِ عظمیٰ کی توثیق کے بعد عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے ایران میں شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہیں جنوری 2018 ء میں ایران کی مغربی سرحد پر پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے گشتی دستے کے ساتھ جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ دہشت گرد سیل کا مقصد ایران میں دراندازی اور سرحدی اور وسطی شہروں میں بیک وقت حملے کرنا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔