بھارت کے عالمی شہرت یافتہ ہپ ہاپ گلوکار سدھو موسے والا کے بہیمانہ قتل کی ایسی معلومات منظر عام پر آئی ہیں جو اس سے قبل کسی کے علم میں نہ تھیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں یہ معلومات 2022 میں دن دیہاڑے کیے گئے سفاکانہ قتل کے ماسٹر مائنڈ گینگسٹر گولڈی برار نے دی۔

گولڈی برار کے بارے میں امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ سدھو موسے والا کے قتل کے بعد سے کینیڈا فرار ہوگیا تھا اور تاحال وہیں چھپا ہوا ہوا ہے۔

قتل کو تین سال مکمل ہونے کے بعد بھی اب تک نہ کوئی مقدمہ چلا اور نہ ہی ماسٹر مائنڈ گولڈی برار گرفتار ہو سکا ہے جس نے میڈیا کے ذریعے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

بی بی سی نے طویل جدوجہد کے بعد گینگسٹر گولڈی برار سے رابطہ قائم کیا اور چھ گھنٹوں پر مشتمل وائس نوٹسز کے تبادلے میں انٹرویو مکمل کیا۔

گولڈی برار نے بی بی سی کو بتایا کہ سدھو موسے والا کی اکڑ برداشت سے باہر ہوگئی تھی۔ اس نے ایسی غلطیاں کیں جنہیں معاف نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ یا وہ بچتا یا ہم۔

قتل کی وجہ بتاتے ہوئے گولڈی برار نے مزید کہا کہ سدھو موسے والا اور گینگ لیڈر لارنس بشنوی 2018 سے رابطے میں تھے۔

گولڈی برار کے بقول گلوکار سدھو موسے والا لارنس بشنوئی کو "گڈ مارننگ" اور "گڈ نائٹ" کے میسجیز بھیجتے تھے مگر جب سدھو نے ہمارے مخالف بمبیہا گینگ کے کبڈی ٹورنامنٹ کو سپورٹ کیا تو بشنوی ناراض ہوگئے۔

بعد ازاں لارنس بشنوی کے قریبی ساتھی وکی مدھوکھیڑا کے قتل نے سدھو اور بشنوئی کے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا۔

پولیس کی تحقیقات کے مطابق بھی سدھو موسے والا کے قریبی دوست شگنپریت سنگھ کو اس قتل میں سہولت کار قرار دیا گیا تھا۔

قتل کی اس واردات میں اپنے دوست کے ملوث ہونے کی سدھو موسے والا نے ہمیشہ تردید کی لیکن گینگسٹرز نے مان لیا کہ سدھو دشمن گینگ کے ساتھ کھڑا تھا۔

گولڈی برار کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار انصاف کی کوشش کی، لیکن جب شنوائی نہیں ہوئی تو خود ہی فیصلہ لینا پڑا۔ جب شرافت کو کوئی نہ سنے تو بندوق کی آواز سنی جاتی ہے۔

جب بی بی سی نے سوال کیا کہ بھارت میں قانون اور انصاف کا نظام موجود ہے تو برار نے جواب دیا کہ یہ سب صرف طاقتور لوگوں کے لیے ہے۔ عام لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔

قتل کی رات کیا ہوا تھا؟

یہ 2022 کی ایک گرم شام تھی جب سدھو موسے والا پنجاب کے ایک گاؤں کے قریب اپنی سیاہ SUV میں گھوم رہے تھے کہ دو گاڑیوں نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔

ایک تنگ موڑ پر ایک گاڑی نے گلوکار کی SUV کو دیوار سے لگا دیا اور گینگسٹرز نے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ سدھو کو 24 گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سدھو موسے والا قتل کی

پڑھیں:

گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔

انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ  مانگ رہی ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا