ملکی بحران کا حل حکومت کی رخصتی میں ہے، محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور موجودہ حکومت کو گرانا اب ناگزیر ہوچکا ہے، ورنہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔
کوئٹہ میں پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو اور سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان جب سے بنا ہے، مسلسل بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ 25 کروڑ عوام کا مینڈیٹ زر اور دہشت کے ذریعے چھینا گیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں عدلیہ کو بے اثر اور میڈیا کو پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے جبکہ آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 45 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ریاست اربوں ڈالر کے قرض تلے دب چکی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ جن افراد کے وسائل ان کی آمدنی سے زیادہ ہیں ان کے اثاثے ضبط کیے جائیں اور قوم کو لوٹی گئی دولت واپس دلائی جائے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا زیادہ تر بجٹ قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ ہو رہا ہے۔
قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ان حالات کا مقابلہ صرف اجتماعی سیاسی جدوجہد سے ممکن ہے، انہوں نے شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں تاکہ ملک کو بچایا جا سکے۔
ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ہمارے لیے سبق ہے۔ ’اگر پاکستان کو کوئی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار وہی قوتیں ہوں گی، جو موجودہ حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔‘
محمود خان اچکزئی کے مطابق اب بھی عدلیہ، میڈیا اور عوام میں ملک کو بچانے کی صلاحیت موجود ہے، بس اس کا درست استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ایران میں موجود پاکستانی زائرین کی باحفاظت واپسی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔