جماعت اسلامی سندھ کی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک ایران پر فضائی حملے کی سخت مذمت اور پاسدارن انقلاب، آرمی چیف سمیت متعدد فوجی افسران اور سائنسدانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاگل جنونی شخص نیتن یاہو نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے پورے خطے کو آگ میں دھکیل دیا ہے، پہلے غزہ، لبنان، حماس، حزب اللہ اور اب شام پر دوسرا بڑا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی ریاست دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست ہے جسے شیطان امریکا کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، جماعت اسلامی جارح اور فاشسٹ ریاست کی جانب سے حالیہ فضائی حملے کو ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔اسرائیل کے اس اقدام سے نہ صرف خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوگا بلکہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا،ایرانی حکومت کو اپنے تحفظ اور شہدا کا بدلہ لینے کا پورا پورا حق حاصل ہے ، امریکا کی حمایت یافتہ صہیونی ریاست اس جارحیت کے نتائج کا مکمل طور پر ذمے دار ہے۔ صہیونی ریاست کے ہاتھ نہ روکے گئے تو کل کسی اور مسلم ملک کی باری ہوگی اس لیے مسلم حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں۔صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے اپنے ایک بیان میں ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلم کھلاخلاف ورزی قرار دیا ہے اور سلامتی کونسل سے امن کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے اکتوبرمیں ایران پر حملے،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے ،غزہ،لبنان اور شام پر مسلسل جارحیت اور مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام سے پہلے ہی عدم استحکام کے شکار خطے میں خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے جبکہ حالیہ حملے کے بعد تنازع کے بڑھنے اور پھیلنے کی تمام تر ذمے داری اسرائیل پر عاید ہوگی ہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل خطے میں اسرائیلی جارحیت اور مجرمانہ رویے کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔حالیہ حملہ ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسرائیلی فضائی حملے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکا کی سرپرستی میں پورے خطے کو جنگ میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی اقدامات پربین الاقوامی برادری کی خاموشی صیہونی ریاست کو دہشت گردی کا لائسنس جاری کرنے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے صہیونی ریاست اپنی جارحانہ پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی اہداف کے خلاف بلا روک ٹوک حملوں کے ذریعے خطے میں تنازع کو وسیع کر رہی ہے۔اگر اب بھی مسلم حکمران بیدار نہ ہوئے تو پھر ایک ایک کرکے سب کی باری لگے گی اور امریکی واسرائیلی گٹھ جوڑ سے گریٹر اسرائیل کے لیے جاری سازشوں کو مزید تقویت ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صہیونی ریاست سلامتی کو ایران پر کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔