اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی فوجی کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدان کون کون ہیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران نے اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور نامور ایٹمی سائنسدانوں کے نام جاری کر دیے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دین اسلام اور ملک و قوم کے لیے اسرائیلی حملے کے سامنے اپنی جان کی بازی لگانے والے شہید افسران کی فہرست جاری کردی گئی۔
شہید ہونے والے پاسداران انقلاب کے موجودہ سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، سابق سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب فضائی فورس کے سربراہ حاجی زادہ اور پاسداران انقلاب خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے سربراہ غلام علی رشید شامل ہیں۔
شہید ہونے والے ایٹمی سائنسدانوں میں احمد رضا ذوالفقاری دریانی، فریدون عباسی، محمد مہدی تہرانچی، عبدالحمید مینوچھر اور امیر حسین فقہی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد سے ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی تھی۔
نیتن یاہو کے بقول یہی وجہ تھی کہ جوہری پروگرام سے روکنے کے لیے اسرائیل کے پاس ایران پر حملے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے میں پاسداران انقلاب کی اعلیٰ قیادت اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت 86 افراد شہید اور 341 زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب شہید ہونے والے
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔