اسرائیلی جارحیت میں ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل حاجی زادہ بھی شہید ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
قدس کی غاصب اور جابر صہیونی حکومت کے آج صبح ایران کے مختلف علاقوں میں رہائشی اور جوہری مراکز پر فضائی حملے کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ بھی شہید ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ جابر صہیونی حکومت کی جارحیت میں کئی فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں سمیت متعدد افراد شہید و زخمی ہو گئے۔ قدس کی غاصب اور جابر صہیونی حکومت کے آج صبح ایران کے مختلف علاقوں میں رہائشی اور جوہری مراکز پر فضائی حملے کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ بھی شہید ہو گئے۔
آج صبح کے غاصب اسرائیل کے حملوں میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف حسین سلامی، خاتم الانبیاؐ مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر غلام علی رشید، ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجرجنرل محمد باقری، ایٹمی سائنسدان محمد مہدی تہرانچی، اور فریدون عباسی اور بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد شہید و زخمی ہو گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :