جمعہ کو علی الصبح کیے گئے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کردیے  اور ہمدان کے فوجی ایئربیس کے بعد تازہ حملے تہران میں ایٹمی سائٹ کو نشانہ بنایا  ۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایران کی خبر ایجنسی فارس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فردو جوہری سائٹ کے قریب دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
فردو نیوکلیئر سائٹ تہران کے جنوب میں اور مرکزی شہر قم سے تقریباً 20 میل (32 کلومیٹر) شمال مشرق میں واقع ہے، اور تقریباً 100 میٹر زیر زمین ہے۔
نیوکلیئر سائٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سننے کی کچھ ابتدائی رپورٹس بھی تھیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اہم یورپی طاقتوں نے اس مخصوص سائٹ پر 83.

7 فیصد تک افزودہ یورینیم کے ذرات کی دریافت پر پہلے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
خیال رہے کہ قبل ازیں اسرائیل نے آج پہلے ایران کے اصفہان صوبے میں نطنز جوہری سائٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سہولت کے باہر تابکاری کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، لیکن اندرونی تابکاری آلودگی کو ’ مناسب حفاظتی اقدامات’ کے ساتھ سنبھالا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے مغربی شہر ہمدان میں واقع نوجہ ایئربیس کو ایک گھنٹے کے دوران دو بار حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
واضح رہے کہ آج علی الصبح اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی سمیت 4 اعلیٰ فوجی افسران اور 6 جوہری سائنسدان شہید ہوگئے۔
اسرائیلی حملوں پر ردعمل میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حکومت نے ایران پر رات کے وقت کیے گئے حملوں سے اپنی تلخ اور تکلیف دہ تقدیر رقم کر دی ہے۔
اسرائیلی حملے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی احمقانہ اور سفاکانہ جارحیت پر پچھتائے گا، اسے بھرپور جواب دیں گے۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت