عالمی دباو، اسرائیل کا غزہ کے 3علاقوں میں روز 10گھنٹے کیلئے حملے روکنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
عالمی دباو، اسرائیل کا غزہ کے 3علاقوں میں روز 10گھنٹے کیلئے حملے روکنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 27 July, 2025 سب نیوز
غزہ(سب نیوز)عالمی دبا وپر اسرائیل نے غزہ کے 3 علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے کے لیے عسکری کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے فضائی اور زمینی راستے سے امداد کی فراہمی شروع کرنے کا دعوی کیا ہے۔مصر کے میڈیا کے مطابق مصر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے امدادی سامان غزہ پہنچایا جا رہا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے ٹرک غزہ بھیجے گئے ہیں یا مزید امداد کب پہنچائی جائے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے 3 مخصوص علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر عسکری کارروائیاں عارضی طور پر روک دے گی، یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی حکام نے فلسطینی علاقے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرنے کا دعوی کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ یہ عارضی وقفہ روزانہ المواسی، دیر البلح اور غزہ سٹی میں صبح 10 بجے سے شام 8 بجے تاحکم ثانی نافذ العمل رہے گا، ان علاقوں میں صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک مخصوص محفوظ راستے بھی مستقل طور پر کھلے رہیں گے تاکہ شہریوں اور امدادی گاڑیوں کی نقل و حرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں بھوک اور قحط کی سنگین صورت حال پر عالمی سطح پر شدید تنقید کے بعد اسرائیل نے فضائی راستے سے غزہ کی پٹی میں امدادی سامان گرانے کا دعوی کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کو ممکن اور موثر بنانے کی جاری کوششوں کے تحت انسانی امداد کی فضائی ترسیل کی گئی ہے، اس سے غزہ میں انسانی صورت حال میں بہتری آئے گی اور اس جھوٹے دعوے کو رد کیا جا سکے گا کہ اسرائیل جان بوجھ کر قحط پیدا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ اور دیگر انسانی امدادی اداروں کے سربراہان اس اقدام کے مثر ہونے پر شدید شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فضائی امداد کی فراہمی نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اس سے شدید بھوک کا شکار افراد کے لیے خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے انروا کے سربراہ فلیپ لازارینی کا کہنا تھا کہ فضائی امداد شدید بھوک کو ختم نہیں کر سکتی، یہ مہنگا، غیر مثر اور بعض صورتوں میں قحط زدہ شہریوں کے لیے جان لیوا بھی ہو سکتا ہے، اسرائیل زمینی راستوں سے امدادی قافلوں کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرے تاکہ غزہ کے 20 لاکھ سے زائد محصور شہریوں تک مناسب خوراک، پانی اور دوائیں بروقت پہنچائی جا سکیں۔ادھر مصر کے سرکاری حمایت یافتہ چینل القاہرہ نیوز ٹی وی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی دبا اور امدادی اداروں کی جانب سے غزہ میں قحط پھیلنے سے متعلق تنبیہات کے بعد امدادی ٹرک مصر سے غزہ کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مصر کی جانب سے رفح کراسنگ کے راستے امدادی ٹرکوں کا قافلہ صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ادھر اردن کے راستے بھی غزہ کو امداد کی فراہمی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، اردن کی پبلک سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ اردنی امدادی قافلے غزہ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔دریں اثنا اسرائیلی صدر اسحق ہرزوگ نے غزہ میں عسکری کارروائیوں میں وقفے کا خیرمقدم کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمون سون بارشوں کے دوران 271افراد جاں بحق ، 655زخمی ہوئے مون سون بارشوں کے دوران 271افراد جاں بحق ، 655زخمی ہوئے وزیراعظم کا ترسیلات زر پاکستان بھیجنے کی سہولت اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں دھڑ جڑے بچوں کو الگ کرنے کے آپریشن کا آغاز بلند شرح سودکاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں رکاوٹ ہے، زاہد اقبال چوہدری ملک میں پولیو کے 3نئے کیسزرپورٹ ، رواں سال تعداد 17ہو گئی پاکستان فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کیخلاف آواز اٹھاتا رہے گا، وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غزہ کے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز