صیہونی فوج نے غزہ تک امداد لے جانے والی کشتی پر قبضہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی شیئر لائیو اسٹریم ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کم از کم چھ اسرائیلی فوجی امدادی کشتی پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں کشتی میں سوار کارکن لائف جیکٹس پہنے اور بازو اٹھائے ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی فوج نے بھوک سے بے حال فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والی اٹلی کی کشتی حنظلہ پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیلی فوج نے کشتی میں سوار نہتے بین الاقوامی سماجی کارکنوں پر اسلحہ تان لیا۔ امدادی کشتی اسرائیل کی ناکہ بندی توڑ کر غزہ امداد لے جانا چاہتی تھی۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی شیئر لائیو اسٹریم ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کم از کم چھ اسرائیلی فوجی امدادی کشتی پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں کشتی میں سوار کارکن لائف جیکٹس پہنے اور بازو اٹھائے ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔
غزہ امداد لے جانے والی کشتی پر اسرائیلی قبضے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، 40 روز قبل بھی غزہ امداد لے جانے والی کشتی کو اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لیا تھا۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں مزید 71 فلسطینی شہید ہوگئے، ان میں امداد کے منتظر 42 افراد بھی شامل ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھوک کی شدت سے اموات کی تعداد 85 بچوں سمیت 127 ہوگئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امداد لے جانے والی اسرائیلی فوج ویڈیو میں کشتی پر فوج نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔