گوادر کے قریب ماہی گیروں کی کشتی ڈوب گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
گوادر کے قریب ماہی گیروں کی کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں ایک جاں بحق اور 4 لاپتہ ہوگئے جبکہ ایک ماہی گیر معجزانہ طور پر بچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں کی کشتی گوادر بلوچستان میں ڈوب گئی، جس میں 6 ماہی گیر سوار تھے۔
حادثے کی شکار کشتی میں سوار ماہی گیروں کا تعلق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری، علی اکبر شاہ گوٹھ اور مچھر کالونی سے ہے۔
گوادر کے قریب ہونے والے کشتی حادثے میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں اور باپ ایوب کی لاش نکال لی گئی ہے جبکہ بیٹا ذیشان تاحال لاپتہ ہے جبکہ مجموعی طور پر 4 ماہی گیر تاحال لاپتہ ہیں تاہم ایک ماہی گیر معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
پاکستان فشر فوک فورم کے میڈیا کوآرڈینیٹر کمال شاہ نے حکام کو مخاطب کرکے کہا کہ پاکستان فشر فوک فورم ریسکیو آپریشن تیز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہی گیروں ماہی گیر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔